وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی پر دہشت گردی کی ایک بڑی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کی گرفتاری سے 14 اگست کے روز معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔
وزیراعلیٰ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سیکیورٹی فورسز محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور پولیس کی بروقت کارروائی سے بلوچستان ایک ممکنہ بڑے سانحے سے محفوظ رہا۔
سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گرفتار کیا گیا مشتبہ شخص بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خودکش ونگ مجید بریگیڈ کا رکن ہے جو تعلیمی ادارے میں لیکچرار کے طور پر فرائض انجام دے رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مجید بریگیڈ کے کسی اہم رکن کو زندہ حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملزم نے دہشت گردوں کو پناہ دی اور انہیں طبی سہولیات بھی اپنے گھر پر فراہم کرتا رہا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بطور استاد اس شخص نے ممکنہ طور پر کئی نوجوان ذہنوں کو بھی انتہا پسندی کی جانب مائل کیا ہوگا۔
پریس کانفرنس میں گرفتار ملزم عثمان قاضی کا ایک ریکارڈ شدہ بیان بھی سنایا گیا جس میں اس نے خود کو گریڈ 18 کا لیکچرار بتایا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی ہے اور اس کی اہلیہ بھی سرکاری ملازم ہے۔
عثمان قاضی کے مطابق اس کا شدت پسند تنظیم سے رابطہ 2020 میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران ہوا جہاں اس کی ملاقات تنظیم کے تین افراد سے ہوئی۔ ان میں سے دو بعد میں مارے گئے جبکہ باقی کے ذریعے اسے گروہ میں شامل کیا گیا۔
ملزم نے مزید بتایا کہ اس کی شدت پسند گروہ کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے ہوئیں اور کوئٹہ پہنچنے کے بعد اس نے تنظیم کی ہدایات پر تین مختلف کارروائیوں میں سہولت کاری بھی کی۔
وزیراعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری بلوچستان اور ملک کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نمایاں کامیابی بھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








