بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی! جنوری 2026 سے کونسے قانون کا نفاذ ہونے جا رہا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Senate body approves PECA Amendment Bill
(فوٹو؛ فائل)

ملائیشیا نے اگلے سال 2026 سے 16 سال سے کم افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ اعلان کمیونیکیشنز وزیر فہمی فضیل نے کیا ہے جو حکومت کی جانب سے بچوں کی آن لائن حفاظت بہتر بنانے کی وسیع منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔

کمیونیکیشنز وزیر فہمی فضیل نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اگلے سال تک الیکٹرانک نو یور کسٹمر (eKYC) شناخت کی تصدیق کا نظام نافذ کرنا ہوگا تاکہ عمر کی حد کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملائیشیا کی وفاقی کابینہ نے گزشتہ ماہ اکتوبر میں فیصلہ کیا تھا کہ سوشل میڈیا استعمال کی کم از کم عمر 13 سے بڑھا کر 16 سال کر دی جائے۔

قانونی کی تفصیلات

عمر کی تصدیق: رجسٹریشن کے لیے سرکاری دستاویزات جیسے مائی کیڈ (MyKad)، پاسپورٹ اور مائی ڈیجیٹل آئی ڈی (MyDigital ID) کا استعمال لازمی ہوگا۔

قانونی بنیاد: یہ پالیسی آن لائن سیفٹی ایکٹ (Online Safety Act) کا حصہ ہے جو 1 جنوری سے نافذ العمل ہو جائے گا۔

کمیونیکیشنز وزیر فہمی فضیل نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ تمام پلیٹ فارم فراہم کنندگان اگلے سال تک eKYC نافذ کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔

وجوہات اور مقاصد

حکومت کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ خطرات سے بچانا ہے جیسے سائبر بُلنگ، غلط معلومات اور ذہنی صحت پر اثرات۔ فہمی نے زور دیا کہ یہ اقدام بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو باہر کھیلنے کی ترغیب دیں اور ان کی گیجٹ استعمال کی نگرانی کریں تاکہ سکرین ٹائم کم ہو۔

یہ فیصلہ انٹرنیٹ پبلک پولیٹی ٹیسٹنگ اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن (IPPTAR) کی جانب سے منعقدہ آن لائن اسکیم آگاہی سیمینار کی اختتامی تقریب کے بعد کیا گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قدم بچوں کی ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ انٹری کو یقینی بنائے گا لیکن نفاذ میں چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں جیسے پرائیویسی اور تکنیکی رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔

Related Posts