پنجاب میں میت کے کھانے پر پابندی عائد؟ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کھول دی حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سوشل میڈیا پر ایک سنسنی خیز افواہ نے عوام میں ہلچل مچا دی کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں جنازوں پر کھانا تیار کرنے، تقسیم کرنے اور سرو کرنے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ افواہوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے ہدایات جاری کی جا رہی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی تاہم پنجاب حکومت نے اس افواہ کو فوری طور پر فیک نیوز قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے سوشل میڈیا پر مختصر مگر واضح بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے جنازوں پر کھانا تیار کرنے یا سرو کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ یہ رپورٹس جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں اور افواہوں کو پھیلنے سے روکیں۔

حکام نے واضح کیا کہ یہ افواہ کسی سرکاری نوٹیفکیشن یا پالیسی پر مبنی نہیں تھی بلکہ صرف سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔ حکومت کا مقصد غلط فہمیوں کو دور کرنا اور غیر مصدقہ مواد کی مزید اشاعت روکنا ہے۔

مزید کہا گیا کہ عوام صرف سرکاری ذرائع سے جاری بیانات پر بھروسہ کریں اور افواہوں کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔ پاکستان میں جنازوں پر مہمانوں کو کھانا پیش کرنا ایک قدیم ثقافتی روایت ہے اور اس پر کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی طاقت اور خطرے کو اجاگر کرتا ہے جو معاشرے میں افراتفری پیدا کر سکتی ہے۔

Related Posts