پائلٹ سمیت پورے عملے نے کینیڈا میں سیاسی پناہ لے لی؟ پی آئی اے نے حقیقت واضح کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

PIA Officially Announces Date to Restart Flights to UK
FILE PHOTO

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک سنسنی خیز خبر نے عوام میں ہلچل مچادی تھی کہ ایک ٹورنٹو جانے والی پرواز کا پائلٹ سمیت پورا عملے نےکینیڈا پہنچ کر حکام کے سامنے سرنڈر ہو گیا اور سیاسی پناہ مانگ لی۔ افواہوں کے مطابق اب نئے پائلٹس بلانے پڑیں گے اور پاکستان سے کینیڈا کے لیے براہِ راست پروازیں بند ہو سکتی ہیں۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اس افواہ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب جھوٹ اور من گھڑت ہے۔پی آئی اے کے ترجمان نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری بیان میں وضاحت کی کہ یہ غلط خبر افغان اور پاکستان مخالف اکاؤنٹس سے پھیلائی گئی جس کا مقصد قومی ایئرلائن اور پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، یہ مکمل طور پر جعلی خبر ہے اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

پی آئی اے نے واضح کیا کہ پورے عملے کے اجتماعی طور پر پناہ مانگنے کا کوئی واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔ ایئرلائن نے تازہ افواہ کو منصوبہ بند سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں اور جعلی خبروں پر یقین نہ کریں۔

ماضی میں چند افراد کی غیر قانونی غیر موجودگی

واضح رہے کہ ماضی میں پی آئی اے کے چند کیبن کریو ممبران کینیڈا میں لی اوور کے دوران لاپتہ ہو چکے ہیں اور ان میں سے بعض نے وہاں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔ صرف 2025 میں تین ایسے کیسز رپورٹ ہوئے اور گزشتہ چند سالوں میں درجنوں کریو ممبران ٹورنٹو میں واپسی کی فلائٹ میں نہیں پہنچے۔ پی آئی اے ان معاملات کی تحقیقات کرتی ہے اور غیر قانونی طور پر غائب ہونے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتی ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے جو قومی اداروں کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

Related Posts