بینکس کا صارفین کو زور دار جھٹکا؛ اے ٹی ایم فیس میں 52 فیصد اضافہ کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Are ATMs and Banks Really Disrupted in Pakistan Amid Tensions with India?
(فوٹو؛ فائل)

ملک بھر کے تمام کمرشل بینکوں نے غیر ملکیتی اے ٹی ایم (یعنی اس بینک کے اے ٹی ایم جو صارف کے اپنے بینک کا نہ ہو) سے رقم نکلوانے کی فیس کو بڑھا دیا ہے۔ یہ فیس فی ٹرانزیکشن 23.44 روپے سے بڑھا کر 35 روپے کر دی گئی ہے۔

نئے نظام کے تحت 28 روپے اس بینک کو جائیں گے جو اے ٹی ایم چلاتا ہے جبکہ 7 روپے انٹربینک اے ٹی ایم نیٹ ورک ون لنک کو ملیں گے۔ بینکوں کے مطابق آپریشنل اور سروس کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے یہ فیس بڑھائی گئی ہے تاہم بہت سے صارفین اسے عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ سمجھتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پہلے صارفین سے غیر ملکیتی اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر 23.44 روپے وصول کیے جاتے تھے۔ یہ فیس کئی سالوں سے نافذ تھی اور زیادہ تر بینکوں نے اسے اپنایا ہوا تھا۔ 35 روپے تک کا اچانک اضافہ ایک بڑی چھلانگ ہے جو خاص طور پر کم آمدنی والے صارفین کو متاثر کرے گا۔

دوسری جانب کچھ بینک مخصوص اکاؤنٹس کے صارفین کو رعایتیں بھی دے رہے ہیں۔ حبیب بینک لمیٹڈ نے اپنے تازہ ترین شیڈول آف بینک چارجز (SOBC) میں واضح کیا کہ اگر صارفین کے پاس ایچ بی ایل فریڈم اکاؤنٹ یا ایچ بی ایل ورک اکاؤنٹ ہے اور وہ ماہانہ اوسطاً کم از کم 40,000 روپے کا بیلنس رکھتے ہیں تو ان کے لیے غیر ملکیتی اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز مکمل طور پر مفت ہوں گی۔ یہ سہولت جولائی سے دسمبر 2025 تک کے لیے دی جا رہی ہے۔

محمد اشفاق جو ایک نجی کمپنی میں 45,000 روپے تنخواہ پر کام کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات آپ کے بینک کا اے ٹی ایم قریب نہیں ہوتا یا کچھ دور ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں بڑھی ہوئی فیس ان جیسے لوگوں پر اضافی بوجھ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تنخواہیں پہلے ہی محدود ہیں اور اس کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی ٹرانزیکشن پر چارجز بڑھائے جا رہے ہیں۔ فی ٹرانزیکشن 35 روپے کم آمدنی والے طبقے کے لیے بہت بڑا بوجھ ہے۔ اب لوگ یا تو اپنے بینک کا اے ٹی ایم ڈھونڈنے پر مجبور ہوں گے یا پھر رقم نکلوانے کی تعداد کم کریں گے حالانکہ ایمرجنسی ہو سکتی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟

Related Posts