بارہ گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد مردوں کے ساتھ جنسی عمل کرنے والی برطانوی ماڈل ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

ماڈل للی فلپس، فائل فوٹو

بارہ گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد مردوں کے ساتھ جنسی تعلق کا ریکارڈ قائم کرنے والی برطانوی ماڈل لِلی فلپس ایک بار پھر خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں اور اس بار ردِعمل واضح طور پر دو حصّوں میں بٹا ہوا ہے۔

گزشتہ برس ایک چونکا دینے والا عالمی ریکارڈ توڑنے کے باعث شہرت پانے والی لِلی اب ایک بالکل مختلف وجہ سے دوبارہ وائرل ہو گئی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بپتسمہ لیا اور خود کو علانیہ طور پر عیسائی قرار دیا۔

یہ لمحہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گیا، مگر جشن کے طور پر نہیں۔ بہت جلد یہ ایمان، تبدیلی اور عوامی جواب دہی پر ایک شدید بحث میں بدل گیا۔ بہت سے لوگوں کے لیے اس بپتسمہ نے ایک غیر آرام دہ سوال کھڑا کر دیا:

وہ ریکارڈ جس نے انہیں مشہور کیا
2025 میں لِلی فلپس اس وقت سرخیوں میں آئیں جب انہوں نے صرف 12 گھنٹوں میں 1,113 مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔ اس عمل کے ذریعے انہوں نے جنوری 2025 میں بونی بلیو کے قائم کردہ 1,057 مردوں والے پچھلے ریکارڈ کو توڑ دیا۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیلی اور لِلی کو عالمی سطح پر بدنام شہرت مل گئی۔

ان کا نام حد سے بڑھی ہوئی حرکات، چونکا دینے والے مواد اور آن لائن تماشے کی علامت بن گیا۔ ناقدین نے اسے پریشان کن قرار دیا، جبکہ حامیوں نے اسے ذاتی اختیار اور انتخاب کا معاملہ کہا۔ بہرحال انٹرنیٹ نے بھرپور توجہ دی۔ یہی پس منظر ہے جس کی وجہ سے ان کا بپتسمہ خاموشی سے قبول نہیں کیا گیا۔

عوامی بپتسمہ اور عوامی شکوک
جیسے ہی بپتسمہ (باقاعدہ میسحیت میں داخل ہونے کی ایک رسم) کی ویڈیو سامنے آئی، ردِعمل تیزی سے آنے لگا۔ کچھ ناظرین نے امید اور خوشی کا اظہار کیا، جبکہ دیگر نے غصے اور بے یقینی سے جواب دیا۔ سب سے زیادہ تنقید ایک ایسی بات پر مرکوز رہی جو فوراً نمایاں ہو گئی۔ ان کے انسٹاگرام پروفائل پر اب بھی اُن کا اونلی فینز (بالغ مواد کی ویب سائٹ) کا لنک موجود تھا اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر فحش تصاویر بھی برقرار تھیں۔

بہت سے مبصرین کے نزدیک یہی ایک حقیقت پورے عمل کو مشکوک بنانے کے لیے کافی تھی۔ اس سے یہ الزامات لگنے لگے کہ بپتسمہ توبہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

سولومن بوچی کی کھلی تنقید
معروف سماجی نقاد سولومن بوچی نے اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی۔ انہوں نے لِلی کے ایمان کے علانیہ اعلان کی سچائی پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص خود کو عوامی طور پر عیسائی کہتا ہے تو اس کے ساتھ طرزِ زندگی میں واضح تبدیلی بھی نظر آنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بپتسمہ لینے کے ساتھ ساتھ وہی فحش پلیٹ فارم برقرار رکھنا ایک الجھا ہوا پیغام دیتا ہے۔ بوچی نے مزید کہا کہ توجہ حاصل کرنے کے لیے حضرت عیسیٰؑ کے نام کا استعمال توہین کے مترادف ہے۔ ان کے بیانات نے پہلے سے جاری شدید بحث کو مزید بھڑکا دیا۔

Related Posts