بھارت میں مسلم، سکھ اور عیسائی ہونا جرم! اقوام متحدہ میں پاکستان نے کھول دی حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹول فائل)

نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران پاکستان کی نمائندہ سائرہ سلیم نے بھارت میں اقلیتوں کی حالتِ زار پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو نہ صرف عبادت کی آزادی حاصل نہیں بلکہ ان کے خلاف منظم مظالم بھی روا رکھے جا رہے ہیں۔

سائرہ سلیم نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اب محض سماجی رویہ نہیں بلکہ حکومتی پالیسی بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گجرات کے فسادات آج بھی ظلم و بربریت کی ایک خوفناک مثال کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جہاں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔

Saima Saleem
Pakistani Counselor Saima Saleem

پاکستانی نمائندہ نے الزام عائد کیا کہ بھارت میں اسلامو فوبیا کو باقاعدہ طور پر سیاسی ہتھیار بنایا گیا ہے اور ہندو انتہا پسندی کو میڈیا میں کھلے عام فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نہ صرف اندرونی سطح پر اقلیتوں کو دبانے میں مصروف ہے بلکہ سرحد پار عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں بھی کررہی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جموں و کشمیر کو ایک تسلیم شدہ متنازع علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کا حصہ کبھی نہیں رہا۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اب ان کی شکایت کس کو کرو گے! ٹرمپ کی رافیل کا بیچ لگاکر مودی کی ٹرولنگ

سائرہ سلیم نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ بھارت خطے میں پراکسی گروپوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے حالیہ آپریشن سدڈور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائی کی کوشش کی جسے پاک فوج نے بروقت ناکام بنایا۔

سائرہ سلیم کا کہنا تھا کہ اس ناکامی کے بعد بھارتی میڈیا پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے جھوٹے بیانیے گھڑنے میں مصروف ہے۔

Related Posts