حکومت کیلئے بڑا دھچکا! وزیراعظم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

فرانس میں سیاسی عدم استحکام اس وقت مزید بڑھ گیا جب صدر ایمانوئیل میکرون نے پیر کے روز نو منتخب وزیراعظم سیبیسچین لیکورنو کا استعفیٰ قبول کرلیا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی جب لیکورنو کو اپنی کابینہ کا اعلان کیے محض چند گھنٹے ہی گزرے تھے۔

لیکورنو جو اس سے پہلے وزیر دفاع بھی رہ چکے ہیں کو صدر میکرون نے گزشتہ ماہ وزیراعظم نامزد کیا تھا تاہم اتوار کی شب انہوں نے جو کابینہ تشکیل دی وہ تقریباً پرانی ٹیم پر ہی مشتمل تھی جس پر ملک بھر میں حزبِ اختلاف سمیت مختلف سیاسی حلقوں نے شدید تنقید کی۔

نئے وزیراعظم پر ایک بڑی ذمے داری یہ تھی کہ وہ اگلے سال کیلئے پیش کیے جانے والے سخت مالیاتی بجٹ کو پارلیمان سے منظور کروائیں لیکن پارلیمان میں شدید تقسیم اور مخالفت کے باعث یہ کام تقریباً ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔

لیکورنو سے پہلے دو وزرائے اعظم فرانسوا بیرو اور مشیل بارنیئربھی بجٹ کے معاملے پر پارلیمان سے ٹکرا کر اپنے عہدوں سے فارغ ہوچکے ہیں۔

فرانس کو اس وقت ریکارڈ سطح کے سرکاری قرض کا سامنا ہے اور حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کا قرضہ اس کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے تناسب سے یورپی یونین میں تیسرا سب سے بلند ہے صرف یونان اور اٹلی آگے ہیں۔ فرانس کا قرضہ اب یورپی قوانین میں مقررہ حد سے تقریباً دو گنا ہوچکا ہے۔

گزشتہ تین سال کے بجٹ سابق حکومتوں نے پارلیمان میں ووٹنگ کے بغیر منظور کیے تھے ایک ایسا طریقہ جو فرانسیسی آئین کے تحت تو جائز ہے لیکن اپوزیشن اسے غیر جمہوری قرار دیتی ہے۔

لیکورنو نے گزشتہ ہفتے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئندہ بجٹ کے لیے پارلیمان سے باقاعدہ منظوری لیں گے مگر حالات نے انہیں وہ موقع ہی نہ دیا۔

فرانس میں سیاسی بحران کی بنیاد صدر میکرون کے اس فیصلے سے پڑی جب انہوں نے گزشتہ سال وسط میں اچانک قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا اعلان کر دیا تاکہ اپنی سیاسی طاقت کو مضبوط کر سکیں لیکن یہ چال الٹی پڑ گئی۔ انتخابات کے بعد ان کی حمایتی جماعت کو اکثریت نہ مل سکی جس کے باعث حکومت مسلسل دباؤ میں ہے۔

اب فرانس سیاسی غیر یقینی صورتحال میں مزید دھنستا جا رہا ہے اور اگلا وزیراعظم کون ہوگا یہ سوال اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

Related Posts