پاکستان کے معروف اداکار ہمایوں سعید نے حال ہی میں کامیڈی ٹاک شو ہنسنا منع ہے میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کے اتار چڑھاؤ، ابتدائی جدوجہد اور اداکاری کی دنیا میں آنے کے پسِ منظر پر کھل کر بات کی۔
ہمایوں سعید نے بتایا کہ ان کا پیشہ ورانہ سفر اسکول ٹیچنگ سے شروع ہوا۔ وہ صرف 16 یا 17 سال کی عمر میں بچوں کو ریاضی اور دیگر مضامین پڑھایا کرتے تھے بعد ازاں انہوں نے گارمنٹس کی ایک فیکٹری میں کام شروع کیا جہاں محض چند سال میں وہ جنرل منیجر کے عہدے تک پہنچ گئے اور یہ سب 20 یا 21 سال کی عمر تک ممکن ہوا۔ یہ اس وقت ان کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔
وہ بیک وقت تین سے چار پروڈکشن یونٹس سنبھال رہے تھے اور زیادہ تر وقت فیکٹری میں ہی گزرتا تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کامیاب مینیجر اچانک اداکاری کے میدان میں کیسے آ گیا؟
ہمایوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کا نیا رخ تب شروع ہوا جب ان کے باس جو خود ماڈل بھی تھے ان کی شخصیت سے متاثر ہوئے اور کہاکہ تم تو ہیرو لگتے ہو۔ انہوں نے ہمایوں کو ایک آڈیشن میں جانے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ ہمائیوں اپنی نوکری سے مطمئن تھے لیکن وہ آڈیشن کے لیے چلے گئے اور انہیں کردار بھی مل گیا لیکن قسمت نے انہیں فوری موقع نہیں دیا۔
شوٹنگ کے آغاز میں ہی ہدایت کار نے ان کا کردار تبدیل کرنے کی کوشش کی جس پر ہمایوں نے پروجیکٹ چھوڑ دیا اور دوبارہ فیکٹری واپس آ گئے تاہم اداکاری کا شوق دل میں باقی رہا۔ جب فیکٹری لاہور منتقل ہو رہی تھی، ہمائیوں نے فیصلہ کیا کہ اب اداکاری کو سنجیدگی سے اپنائیں گے۔ انہوں نے دوستوں سے قرض لے کر اپنا پہلا ڈرامہ خود پروڈیوس کیا۔
اسی دوران وہی ہدایت کار جن سے پہلے ان کا اختلاف ہوا تھا ان کی لگن دیکھ کر دوبارہ رابطے میں آئے۔ اگرچہ اس ہدایت کار نے ہمایوں کے پروڈیوس کیے گئے ڈرامے کو بہت خراب کہا لیکن ان کی اداکاری کو سراہتے ہوئے پی ٹی وی کے ڈرامے یہ جہاں میں کام کی پیشکش کی۔
ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ کامیابی محض محنت سے نہیں ملتی قسمت کا بھی اہم کردار ہوتا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محنت کیے بغیر قسمت بھی کام نہیں آتی۔
وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابتدا میں صرف ایک بار اداکاری کرنے کا سوچا تھا لیکن جب لوگوں نے ان کی تعریف کی، فیملیز نے ان کی اداکاری کو پسند کیا تو انہوں نے اداکاری کو مستقل پیشہ بنا لیا۔
آج ہمایوں سعید کو پاکستان کے سب سے کامیاب فلمی و ٹی وی اداکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں لکس اسٹائل ایوارڈز اور اے آر وائے فلم ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کی کہانی نہ صرف نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ اگر جذبہ ہو تو کوئی بھی راستہ بدلا جا سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








