آن لائن ایپس کے ذریعے جوا ! اہلیہ عروب جتوئی کو عبوری ضمانت منظور، ڈکی بھائی سے متعلق اہم انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

Ducky Bhai’s wife Alleges NCCIA officers took millions to “provide relief”
FILE PHOTO

لاہور کی سیشن عدالت نے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کو آن لائن ایپس کے ذریعے جوا فروغ دینے کے کیس میں عبوری ضمانت دے دی۔

عدالت نے عروب جتوئی کی قبل از گرفتاری درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 30 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں عروب جتوئی کو ہدایت کی گئی کہ وہ تحقیقات میں شامل ہوں جبکہ تفتیشی افسر کو بھی کہا گیا کہ اگلی سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

یہ کیس ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں سنا گیا جس میں عروب جتوئی کی جانب سے ایڈوکیٹ عرفان اور راجہ عبدالرحمان رانجھا پیش ہوئے۔

اس سے قبل قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ڈکی بھائی کے خلاف کیس میں اہم انکشافات کیے تھے۔

حکام کے مطابق سعد الرحمان کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ بیرون ملک روانہ ہونے کی کوشش کر رہے

تھے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی آن لائن جوا ایپ کے کنٹری مینیجر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور متعدد بیٹنگ پلیٹ فارمز کی تشہیر کر رہے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق 13 جون 2025 کو تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب شواہد ملے کہ کئی سوشل میڈیا شخصیات عوام کو جوا ایپس میں سرمایہ کاری پر آمادہ کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہری مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔

شکایات میں کہا گیا کہ متاثرہ افراد پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار تھے تاہم ان ایپس کے ذریعے ان کے لاکھوں روپے ڈوب گئے۔

تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ ڈکی بھائی نے ایسے پلیٹ فارمز مثلا بینومو کی تشہیر کی جس نے پاکستانی صارفین سے خطیر رقم وصول کی لیکن بعد میں ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ ایپ پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق ڈکی بھائی کو بارہا تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے بلایا گیا لیکن انہوں نے تعاون نہیں کیا۔

اس کے بعد ان کا نام عارضی قومی شناختی فہرست میں شامل کیا گیا اور انہیں لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔

عدالت نے عروب جتوئی کو عبوری ریلیف فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس کی مزید کارروائی میں تفتیشی رپورٹ انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔ آئندہ سماعت میں مزید شواہد عدالت کے سامنے آنے کا امکان ہے۔

Related Posts