کراچی، موبائل مارکیٹ میں رواں سال کی پہلی بڑی ڈکیتی، 1 کروڑ 46لاکھ غائب

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی، موبائل مارکیٹ میں رواں سال کی پہلی بڑی ڈکیتی، 1 کروڑ 46لاکھ غائب
کراچی، موبائل مارکیٹ میں رواں سال کی پہلی بڑی ڈکیتی، 1 کروڑ 46لاکھ غائب

کراچی کے علاقے صدر میں ڈاکوؤں نے رواں سال کی پہلی بڑی ڈکیتی کے دوران 1 کروڑ 46 لاکھ روپے غائب کردئیے جس میں نقد رقم اور کراس چیک شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی مرکزی صدر موبائل مارکیٹ میں 1 کروڑ 46 لاکھ روپے کی لوٹ مار ہوئی۔ ڈکیت اسکواڈ نقدی اور چیک لوٹ کر بھاگ نکلا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے جس پر تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔

  یہ بھی پڑھیں:

وزیرستان کی خاتون اور مرد کراچی میں غیرت کے نام پر قتل

شہرِ قائد کے ضلع جنوبی میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں نہ تھم سکیں۔ مسلسل لوٹ مار سے تاجر برادری اور دکانداروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ آج سے 2 روز قبل دن دہاڑے 4 مسلح لٹیروں نے موبائل تاجر کے آفس کو گھیرے میں لے لیا۔

مسلح ڈاکوؤں نے دکان میں گھس کر 46 لاکھ روپے نقد جبکہ 77 لاکھ مالیت کے کراس چیک لوٹ لیے۔ فیڈرل بی ایریا کے رہائشی محمد رفیق کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ تھانہ پریڈی میں درج کر لیا گیا۔ متن کے مطابق واردات شام 4بجے کے بعد ہوئی۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان شام 4 بج کر 35 منٹ پر آفس میں داخل ہوئے، تمام ملازمین پر تشدد کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ 46 لاکھ 60 ہزار روپے نقد اور 23عدد 77 لاکھ 46 ہزار 320 روپے مالیت کے چیک لے کر فرار ہوئے۔

ملزمان نے آفس میں موجود ملازمین کے موبائل فون بھی اسلحے کے زور پر لوٹ لیے۔ واردات عبداللہ ہارون روڈ پر واقع کراچی کی سب سے بڑی موبائل مارکیٹ کے بڑے تاجر گابا کے آفس میں ہوئی جس پر ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔

الیکٹرانکس مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کرادیا گیا ہے۔ پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیاجارہا ہے۔ واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیدی گئی۔ پولیس نے ملزمان کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرادی۔ 

Related Posts