اسلام آباد: وزیرِخارجہ بلاول بھٹو زرداری نےکہا ہے کہ مجھے فوری الیکشن نہ کرانے پر تحریکِ عدم اعتماد سے قبل مارشل لاء کی دھمکی دی گئی، آئین پر حملوں کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن بنانا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق آج قومی اسمبلی اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے میں ملوث ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
سانحہ 12 مئی، بلاول بھٹو زرداری کا کراچی کے شہداء کیلئے خراجِ تحسین
پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیرِخارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے یکطرفہ اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ کشمیر کی آئینی حیثیت بدلی گئی اور 5 اگست کے بعد سے غیر کشمیریوں کو بسایا گیا۔
بیان میں وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم بھارت کے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارتی فوج کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کا خود ساختہ کمیشن مسترد کرتے ہیں۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حد بندی کمیشن کی رپورٹ بھی مسترد کرتے ہیں۔ مودی حکومت نئی حد بندیوں سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آواز دبانے کی خواہاں ہے۔
چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جموں کی نشستوں میں اضافہ ہوا تاہم مقبوضہ کشمیر میں 1 نشست بڑھی۔ دفترِخارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ بلا کر احتجاج کیا۔
سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت میں آنے سے قبل صورتحال درست نہیں تھی۔ سلیکٹیڈ وزیر اعظم نے ملک کو نقصان پہنچایا۔ 4 سال میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جسے یاد رکھا جاسکے۔
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے آئین توڑا۔ ان کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا۔ پی پی پی اور ن لیگ اتحادی حکومت میں ساتھ بیٹھی ہیں۔ کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ ایسا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4سال میں ہر ادارہ متنازعہ ہوگیا۔ عمران خان نے جاتے جاتے اداروں اور جمہوریت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ آئین پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ عمران خان خود کو مقدس گائےسمجھتے ہیں، ہم ملک میں اداروں پر کیے گئے حملے نظر انداز نہیں کریں گے۔ حالیہ صورتحال معیشت کیلئے نقصان دہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 4 سال تک پی ٹی آئی والے چور چور کا شور مچاتے نظر آئے، سزا دلوانے کی بجائے خود چور ثابت ہوئے۔ کیا ہم سابق وزیر اعظم کو اجازت دے سکتے ہیں کہ جو چاہیں بول دیں؟ کیا کوئی پوچھنے والا نہیں؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








