ایک سیاسی جماعت کے قائد نے عدلیہ اور آرمی چیف پر حملہ کیا، بلاول

تازہ ترین

تازہ ترین

آرمی چیف
(فوٹو: خلیج ٹائمز)

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے قائد نے عدلیہ اور آرمی چیف پر حملہ کیا، اور وہ اپنے اس بیان سے آج تک پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں ملک کے کمسن ترین سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوریت میں آئین سازی کے لیے کم از کم اتفاقِ رائے بنانا ضروری ہوتا ہے، جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کافی باتوں کیلئے راضی ہیں۔

بیان میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی خواہش ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کی طرح مجوّزہ آئینی ترامیم پر بھی اتفاقِ رائے ہوجائے۔ دودن قبل جب یہ کمیٹی بنائی گئی تو اسمبلی کا ماحول خراب تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پی پی پی نے اسمبلی کا ماحول بہتر کرنے کی کوشش کی، ایک سیاسی جماعت کے قائد جو عدلیہ اور آرمی چیف پر حملہ کر رہے تھے، وہ آج تک اس بیانیے سے پیچھے ہٹتے نظر نہیں آئے۔ ان سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے؟

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے ادارے کے سربراہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ ہماری کوشش ہوگی کہ کم از کم اکثریتی اتفاقِ رائے لے کر آیا جائے۔ پی پی پی 2006 سے میثاقِ جمہوریت کی تکمیل کے انتظار میں ہے۔ ایک روز اور بھی انتظار کرلیں گے۔

Related Posts