لاہور: پنجاب میں عمران خان کے ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کے پہلے فیز کی خصوصی آڈٹ رپورٹ میں اربوں کی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں عوامی وسائل کے ضیاع پر 13 بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا۔ پراجیکٹ میں نظر ثانی سے 1219 ایکڑ اراضی کو سیلاب سے نقصان پہنچا جبکہ جنگلات کے آپریشنز پر غیر قانونی اخراجات ہوئے۔قومی خزانے کو اربوں کانقصان پہنچایا گیا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ آڈٹ رپورٹ میں 10 ارب درختوں کے سونامی پروگرام کے پہلے فیز میں درختوں کی نشوونما 4سال میں ہونی تھی لیکن ابتدائی 3 سالوں کا آڈٹ ہوا اور پہلے 3 مطلوبہ اہداف اور بینچ مارک کے حصول کے بغیر تکمیل ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پروگرام کا بڑا مقصد جنگل کی نشوونما سے درختوں کی تعداد بڑھانا تھا۔ منصوبہ ایکنک کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے 5اعشاریہ 89ارب اور 84ماہ کی مدت کیلئے منظور کیا تھا جسے محکمہ جنگلی حیات پنجاب کے ڈی جی نے نافذ کیا۔پودوں کی بقا کی شرح میں ناکامی ہوئی۔
دریائی علاقوں کا رقبہ 13ہزار 997 ہیکٹر ہے جس میں 26 جنگلات ہیں، 3 اضلاع میں 4ہزار 255 مربع کلومیٹر کا علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے جبکہ ایک جھاڑی دار جنگل کا کل رقبہ 7 ہزار 859 ہیکٹر ہے، جنگلاتی حصے کے حوالے سے ناکامی پر 36 کروڑ 97 لاکھ روپے کے عوامی وسائل ضائع کیے گئے۔
سیلاب کے باعث 1 ہزار 219 ایکڑ رقبے پربھی جنگلات کا نقصان ہوا جس سے 10 کروڑ 95 لاکھ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔ غلط منصوبہ بندی اور تاخیر کے باعث قومی حزانے کو 1اعشاریہ 045ارب کا نقصان ہوا۔ ٹیکس میں بے ضابطگیوں کے باعث 2 کروڑ 34 لاکھ کا نقصان الگ ہوا۔
اس کے علاوہ مزدوری کے اخراجات کی دوہری ڈرائنگز، جعلی طریقے سے مزدوروں کی فہرستوں کی چارجنگ میں 10 کروڑ 29 لاکھ کانقصان ہوا اور مختلف مداخلتوں کے باعث زیادہ چارج شدہ پودوں اور نرسریز میں پودوں کی کمی کے باعث 10 کروڑ 35لاکھ کا الگ نقصان ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








