قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے پام وسٹا ہاؤسنگ سوسائٹی کے اربوں روپے کے مبینہ اسکینڈل میں مطلوب مرکزی ملزم کو انٹرپول کی مدد سے متحدہ عرب امارات سے گرفتار کرلیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق نیشنل سینٹرل بیورو (NCB) پاکستان جو ایف آئی اے کے تحت انٹرپول سے رابطہ کاری کا کام کرتا ہے نے تصدیق کی ہے کہ مفرور ملزم محمد قاسم خان کو ابوظہبی میں حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں اسے متحدہ عرب امارات کے حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اب یو اے ای کی جانب سے سفارتی چینلز کے ذریعے اس کی حوالگی کیلئے باضابطہ دستاویزات طلب کر لی گئی ہیں تاکہ اسے پاکستان کے حوالے کیا جا سکے۔
خفیہ اور انتہائی فوری نوعیت کے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرپول ابو ظہبی نے 20 مئی 2026 کو پاکستانی حکام کو آگاہ کیا کہ یہ گرفتاری ریڈ نوٹس کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔ یہ نوٹس قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 9(a)(ix)(x)(xi) کے تحت درج الزامات سے متعلق جاری کیا گیا تھا۔ اب پاکستانی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر تصدیق شدہ حوالگی دستاویزات انگریزی اور عربی زبان میں تیار کرکے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ انصاف کو ارسال کریں۔
یہ گرفتاری پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے جس میں مبینہ طور پر 1.4 ارب روپے سے زائد کی رقم سینکڑوں شہریوں سے جعلی پلاٹس، جھوٹے وعدوں اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیم کے ذریعے حاصل کی گئی۔
نیب لاہور کے مطابق کم از کم 295 متاثرہ افراد اپنی جمع پونجی سے محروم ہوئے۔ اس کیس میں دو ڈائریکٹرز محمود طارق اور عامر عظیم پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ مرکزی ملزم قاسم خان بیرون ملک فرار ہو کر کارروائی سے بچتا رہا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








