ایک گھنٹے کی بارش سے اربوں روپے کا نقصان! کراچی کے تباہ حال تاجروں کا حکومت سے بڑا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں حالیہ بارشوں کے شہر کے اہم ترین تجارتی مراکز زیر آب آنے سے تاجروں کو 4 سے 5 ارب روپے تک کے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

تجارتی تنظیموں کے مطابق جوڑیا بازار، لائٹ ہاؤس، آرام باغ، اردو بازار، میڈیسن مارکیٹ، نرسری فرنیچر مارکیٹ، گول مارکیٹ اور لیاقت آباد صرافہ بازار جیسے اہم بازاروں میں گوداموں اور دکانوں میں پانی داخل ہونے سے کروڑوں روپے مالیت کی اشیاء تباہ ہو گئی ہیں۔ تاجروں نے خبردار کیا کہ شہر کا ناقص نکاسی آب کا نظام دوران بارش مکمل طور پر ناکام رہا۔

آل سٹی ٹریڈرز الائنس کے پیٹرن ان چیف شرجیل گوپلانی نے صحافیوں کو بتایا کہ صرف ایک گھنٹے کی بارش کے نتیجے میں تاجروں کو 2 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر متاثرہ کاروبار کو معاوضہ دیا جائے اور تجارتی مراکز میں مؤثر نکاسی آب کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔

تاجروں کے ایک اور رہنما اسماعیل لالپوریا نے شہر کی انتظامیہ پر بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی کی شدید تنقید کی اور کہا کہ کاروباری برادری کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دریں اثنا آل کراچی ٹریڈرز الائنس کے صدر، عتیق میر نے کہا کہ صرف ایک گھنٹے کی بارش کی وجہ سے جائیدادوں اور کاروبار کی بندش سے ناقابل تلافی نقصانات ہوئے ہیں جن کی مالیت اب 5 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

تاجر کہتے ہیں کہ موسلا دھار بارش اور ناکافی شہری انفراسٹرکچر کی وجہ سے کراچی کی تجارتی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو شہر کی تجارتی بحالی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

Related Posts