دنیا بھر کی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھی جارہی ہے جس کے دوران بٹ کوائن عارضی طور پر 99ہزار ڈالر کی حد سے نیچے چلا گیا بعدازاں یہ معمولی بہتری کے ساتھ ایک لاکھ ایک ہزار ڈالر کی سطح پر واپس آیا۔
دوسری جانب ایتھریئم کی قیمت میں دس فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جو تین ہزار ڈالر تک گرنے کے بعد تین ہزار دو سو ڈالر کے قریب واپس آئی۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بیشتر بڑی کرپٹو کرنسیاں دو سے دس فیصد تک کم ہوئیں تاہم چند نئے کوائنز نے مندی کے باوجود غیر معمولی اضافہ دکھایا۔
حال ہی میں متعارف کرایا گیا ٹوکن ایم ایم ٹی اپنی پہلی ریلیز کے بعد 1900فیصد تک بڑھ گیا حالانکہ اس ہفتے مارکیٹ میں مجموعی طور پر فروخت کا دباؤ جاری رہا۔
چھ اکتوبر سے اب تک کرپٹو مارکیٹ مجموعی طور پر ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کی قدر کھو چکی ہے، جو عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مندی کے دوران ایک ارب 73کروڑ ڈالر کے کرپٹو پوزیشنز ختم ہوئیں، جن میں ایک ارب 32کروڑ ڈالر کے لانگ اور چار سو چھ ملین ڈالر کے شارٹ پوزیشنز شامل ہیں۔
بٹ کوائن کی لانگ پوزیشنز 444ملین ڈالر اور ایتھریئم کی لانگ پوزیشنز 486ملین ڈالر کی بند ہوئیں، یوں مجموعی طور پر 930ملین ڈالر نکالے گئے۔
عالمی سطح پر چار لاکھ چھتیس ہزار سے زائد سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جن میں سب سے بڑی ایک ہی پوزیشن چھبیس ملین ڈالر مالیت کی ایتھ یو ایس ڈی تھی جو ہائپر لیکوئڈ پلیٹ فارم پر ختم ہوئی۔
ماہرین کے مطابق اب روایتی چار سالہ کرپٹو سائیکل مارکیٹ کی حرکات کی درست وضاحت نہیں کرتا۔ عالمی سطح پر مالیاتی سہولت میں نرمی کے باوجود زیادہ تر نیا سرمایہ ایکویٹیز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں جا رہا ہے، جس سے کرپٹو مارکیٹ میں سرمایے کی کمی نمایاں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








