بِٹ کوائن زمین بوس، 77 ہزار ڈالر سے نیچے، سرمایہ کاروں میں ہلچل

تازہ ترین

تازہ ترین

بٹ کوائن کی تصویر
بٹ کوائن، فائل فوٹو

بِٹ کوائن کو جنوری کے آخری ہفتے اور فروری 2026 کے آغاز میں شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا، جب اس کی قیمت 77 ہزار ڈالر سے نیچے گر گئی اور اپریل 2025 کے بعد کی کم ترین سطح پر آ گئی۔

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایک ہی ہفتے میں 10 سے 13 فیصد تک گر گئی، جس سے اکتوبر 2025 میں حاصل ہونے والے منافع ختم ہو گئے اور مارکیٹ ویلیو میں 800 ارب ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔

یہ فروخت مختلف عالمی معاشی اور مارکیٹ سے متعلق عوامل کے باعث ہوئی۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے طور پر جیروم پاول کی جگہ کیون وارش کی نامزدگی کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہوا، جس سے مستقبل کی شرحِ سود پالیسی پر خدشات بڑھے اور امریکی ڈالر مضبوط ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:

ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت لانے کا ٹھیکہ ٹرمپ خاندان سے وابستہ کرپٹو کمپنی کو فراہم؟

اسی دوران امریکا میں درج بِٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) سے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر نکال لیے گئے، جو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کمی کا اشارہ ہے۔

زیادہ اتار چڑھاؤ کے باعث جبری لیکویڈیشنز بھی ہوئیں، اور ایک ہفتے کے دوران لیوریج پر مبنی بِٹ کوائن پوزیشنز میں دو ارب ڈالر سے زائد کا صفایا ہو گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ویک اینڈ پر مارکیٹ میں کم لیکویڈیٹی نے اس گراوٹ کو مزید بڑھا دیا، جس کے باعث قیمتیں معمول سے زیادہ تیزی سے نیچے آئیں۔ بِٹ کوائن کی یہ مندی عالمی منڈیوں میں مجموعی طور پر ’’رسک آف‘‘ رجحان کے ساتھ بھی جڑی ہوئی تھی، جس میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز بھی دباؤ کا شکار رہے۔

کچھ ایکسچینجز پر بِٹ کوائن عارضی طور پر 74 ہزار 876 ڈالر کی سطح تک گر گیا، جس کے بعد 77 ہزار سے 78 ہزار ڈالر کے درمیان استحکام کی کوشش کی گئی۔

اس کمزوری کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ میں پھیل گئے۔ ایتھیریئم ایک ہفتے میں 18 سے 20 فیصد تک گر گیا، جبکہ سولانا اور ایکس آر پی جیسے دیگر بڑے ٹوکنز میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

Related Posts