کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت گزشتہ 3 ماہ میں پہلی بار 50 ہزار ڈالر سے تجاوز کرگئی۔ 3 ماہ قبل چین میں کریک ڈاؤن اور ٹیسلا کی طرف سے نامنظوری کے بعد کرنسی کی قیمت میں بد ترین گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
تفصیلات کے مطابق 3 ماہ بعد سرمایہ کاروں نے ایک بار پھر بٹ کوائن پر پیسہ لگانا شروع کردیا۔ اہم کمپنیوں نے ڈیجیٹل کرنسی کو لین دین کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا جس سے بٹ کوائن کی قدر میں جنوری سے اب تک 81 فیصد اضافہ ہوا۔
امریکی کمپنی پے پال کی جانب سے برطانوی صارفین کو بٹ کوائن اور دیگر کرنسیاں خریدنے، بیچنے اور رکھنے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد کرپٹو کرنسی کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی بار پے پال نے خدمات کا دائرہ وسیع کیا۔
جنوری میں بٹ کوائن کی قدر 27 ہزار ڈالر تک گر چکی تھی تاہم گزشتہ روز بٹ کوائن کی قیمت میں یکم مشت 3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ کرپٹو کرنسی کی قدر 50 ہزار 226 ڈالر تک پہنچ گئی جس میں اتار چڑھاؤ کا عمل جاری ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی قدر میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی آئے گی کیونکہ کرپٹو کرنسی غیر مستحکم ہوتی ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قدر میں کمی بیشی سرمایہ کاروں کی دلچسپی سے مشروط ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شدید مندی کی صورتحال دیکھنے کو ملی، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قدر 30ہزار ڈالر سے بھی نیچے آگئی۔
آج سے 2 ماہ قبل کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شدید مندی چھائی رہی، جس کے بعد بٹ کوائن 30ہزار ڈالر سے بھی نیچے آگیا، جس کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: کرپٹو کرنسی میں مندی، بٹ کوائن 30ہزار ڈالر سے نیچے آگیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








