میسور: بھارتی ریاست کرناٹک میں بی جے پی کے رکنِ اسمبلی پرتاب سنہا نے مسجد سے خوف کھاتے ہوئے بس اسٹینڈ پر بنے گنبد بھی گرادئیے جبکہ ایک گنبد پر لال رنگ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی حکمراں سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکنِ اسمبلی پرتاب سنہا نے کرناٹک کے شہر میسور میں ایک بس اسٹاپ پر مسافروں کیلئے قائم انتظار گاہ کی چھت پر بنائے گئے سنہرے رنگ کے 3 گنبدوں میں سے 2 کو گرا دیا۔
مظاہروں کی حمایت، ایرانی سپریم لیڈر کی بھانجی گرفتار
رکنِ اسمبلی نے مذہبی منافرت پر مبنی مہم چلائی اور اشتعال پھیلایا۔ پرتاب سنہا کے حکم پر انتظار گاہ بنانے والی کمپنی نے 3 میں سے 2 گنبد ہٹا دئیے اور دمریان والے گنبد پر سرخ رنگ کردیا۔ رکنِ اسمبلی پرتاب سنہا کا کہنا تھا کہ اس نے گنبدوں والے بس اسٹاپ کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں۔
پرتاب سنہا نے کہا کہ میسور میں ایسے گنبدوں والی کئی تعمیرات کی جارہی ہیں، جنہیں روکنا ضروری ہے تاہم بی جے پی کے ہی ایک اور رکنِ اسمبلی رام داس کا کہنا ہے کہ بس اسٹاپ ہم نے تعمیر کروایا۔ اس کا ڈیزائن میسور محل کی طرز پر رکھا گیا۔
دلچسپ طور پر پہلے تو رام داس نے بی جے پی رکن پرتاب سنہا کے دھمکی آمیز بیان کی تردید جاری کی، پھر انتظار گاہ کی تعمیرِ نو سے بھی انکار کردیا، تاہم پھر مقامی افراد کو ایک خط میں معذرت کی اور کہا کہ تعمیر پر اختلافِ رائے کی وجہ سے 2 گنبد ہٹائے گئے۔ جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








