گستاخ رسول کو امن کا علمبردار بنا دیا! متنازعہ مصنف کو ڈیٹن لٹریری پیس پرائز ملنے پر مسلم دنیا میں غم و غصہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ سی این این)

متنازع اور گستاخانہ خیالات کے سبب عالمی سطح پر بدنام ہونے والے برطانوی نژاد مصنف سلمان رشدی کو امریکی ریاست اوہائیو میں ہونے والی تقریب میں ڈیٹن لٹریری پیس پرائز کے تحت لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دے دیا گیا۔

سلمان رشدی وہی شخص ہے جس کی تحریر دی سیٹینک ورسز (The Satanic Verses) نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو تار تار کیا اور جس کے باعث 1989 میں ایران کے رہنما آیت اللہ خمینی نے اس کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔

متنازعہ مصنف رشدی جن کی عمر اب 78 سال ہے، 2022 میں نیویارک میں ایک تقریب کے دوران حملے میں زخمی ہوا تھا۔ اس واقعے میں وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے تھے جبکہ حملہ آور ہادی مطر کو 25 سال قید کی سزا دی گئی۔

امن کا پیغام یا تضاد کی مثال؟

ایوارڈ دیتے وقت منتظمین نے کہا کہ یہ ان ادیبوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ادب کے ذریعے امن اور ہم آہنگی کا پیغام دیا ہو مگر مبصرین کے مطابق سلمان رشدی کا نام اس تصور سے بالکل متصادم ہے کیونکہ ان کی متنازع تحریروں نے بین المذاہب کشیدگی اور عالمی بدامنی کو جنم دیا۔

ایوارڈ وصول کرتے ہوئے رشدی نے کہا کہ جب دنیا میں اتنا تشدد اور جنگیں ہوں تو امن پر لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک کتاب گولی نہیں روک سکتی، ایک نظم بم نہیں روک سکتی مگر ادب انسانوں کے دکھ بانٹ سکتا ہے۔

ناقدین کے مطابق یہی بات رشدی کے لیے سب سے بڑا تضاد ہے کیونکہ جس شخص کے قلم سے مسلمانوں کی دل آزاری اور مذہبی نفرت نے جنم لیا اب اُسی کو امن کا سفیر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

رشدی کی حالیہ تصانیف

سلمان رشدی نے 2024 میں اپنے اوپر ہونے والے حملے پر مبنی یادداشت Knife لکھی تھی جو نیشنل بک ایوارڈ کی فائنلسٹ قرار پائی۔ ان کی تازہ ترین کتاب The Eleventh Hour تین ناولٹوں اور دو کہانیوں پر مشتمل ہے۔

رواں سال کے دیگر ایوارڈ یافتگان میں کاوے اکبر (کتاب Martyr!) اور سنیل امرتھ (The Burning Earth) شامل ہیں۔

یہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ جسے سابق امریکی سفارتکار رچرڈ ہالبروک کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اس سے قبل جمی کارٹر، مارگریٹ ایٹ وُڈ اور ایلی ویسل جیسے شخصیات کو بھی دیا جا چکا ہے۔

Related Posts