وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور ان کی کھپت کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس کی صدارت کی جوکہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بلایا گیا اور اس میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز رہا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب ذخائر اور بہتر منصوبہ بندی کی بدولت علاقائی تناؤ کے باوجود اب تک تیل کی کوئی کمی نہیں ہوئی۔ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کیے گئے اقدامات کو مزید جاری رکھا جائے گا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو موجودہ پیٹرولیم ذخائر اور آئندہ کی ضروریات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں فی الحال پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار دستیاب ہے البتہ بچت کے لیے کفایت شعاری کی پالیسی کو سختی سے نافذ رکھنا ضروری ہے۔
اس کے علاوہ مستقبل کی ممکنہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی درآمد کا انتظام بھی پہلے ہی مکمل کر لیا گیا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز سے تمام جہازوں کی آمد و رفت بند کرنے کے لیے ناکہ بندی کا آغاز کردیا ہے جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل شدید متاثر ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








