امریکا کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے ایک حصے کو محدود کرنے کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے شروع کیا گیا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل، کھاد اور دیگر اہم اشیاء کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
ایران نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس کی بندرگاہوں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ بھرپور جواب دے گا۔
تہران کا کہنا تھا کہ یہ اقدام غیر قانونی اور سمندری قزاقی کے مترادف ہے اور اگر اس کی تجارت متاثر ہوئی تو خلیجی خطے کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ان مذاکرات میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا تاہم امریکی وفد کے سربراہ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق اصل اختلاف ایران کے جوہری پروگرام پر تھا، جس سے دستبردار ہونے سے ایران نے انکار کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اب بھی دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ موجودہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
پاکستان کے سابق قومی سلامتی مشیر معید یوسف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت مکمل طور پر ناکام نہیں تھی بلکہ دونوں فریق آگے بڑھنے میں دلچسپی رکھتے تھے تاہم ایک ہی دن میں باضابطہ معاہدہ طے ہونا مشکل تھا۔انکے مطابق پہلا قدم جنگ بندی میں توسیع ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی ایران پر معاشی دباؤ بڑھا دیگی اور ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں ایران دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہو جائے۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے ساتھ مل کر عالمی رہنماؤں کا اجلاس طلب کریں گے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم بحری راستے کو بغیر کسی شرط اور رکاوٹ کے بحال کرنا ضروری ہے۔
ادھر امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے بعد کم از کم دو آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بجائے اپنا راستہ تبدیل کر لیا جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں پر فوری اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی بھی جہاز امریکی ناکہ بندی کے قریب آیا یا اسے چیلنج کیا تو اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
اس سے قبل امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جسکے تحت امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے جہازوں کو روکیں جو ایران کو ادائیگی کر کے گزرنے کی کوشش کریں۔
ایران نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے کنٹرول میں ہے اور غیر فوجی جہازوں کے لیے کھلی ہے، تاہم کسی بھی فوجی سرگرمی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
امریکی بحریہ کے مطابق خطے میں اس وقت کئی جنگی جہاز، طیارہ بردار بحری جہاز اور میزائل بردار ڈسٹرائرز تعینات ہیں، جو اس آپریشن کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ مزید بحری قوت بحیرہ روم اور دیگر علاقوں میں بھی موجود ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








