کراچی میں خونریزی؛ اہل تشیع عالم رجب علی وارث بنگش سمیت دو افراد جاں بحق

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

شہر قائد ایک بار پھر گولیوں کی زد میں آ گیا۔ گلستانِ جوہر کے علاقے پہلوان گوٹھ میں نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔ جاں بحق افراد میں ایک کی شناخت معروف شیعہ عالم دین مولانا رجب علی بنگش کے بیٹے علی وارث کے طور پر ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مقتول کا نام سید مظہر عباس بتایا گیا ہے۔

واقعہ سندھ بلوچستان ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب پیش آیا، جہاں مقتولین ایک آئل شاپ پر بیٹھے تھے کہ اچانک حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کر دی۔

ایس پی گلشن احمد اقبال میمن کے مطابق یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، تاہم معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ افراد زخمی حالت میں قریبی نجی اسپتال منتقل کیے گئے، جہاں دو کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔

دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے ترجمان سید علی احمد زیدی نے اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جاں بحق ہونے والے دونوں افراد کا تعلق شیعہ مسلک اور گلگت بلتستان سے تھا، اور انہیں مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کے بعد پہلوان گوٹھ اور اطراف کے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی افراد اور سوشل میڈیا صارفین نے واقعے کی شدید مذمت کی اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فاروق رضا نے بتایا کہ مختلف نوعیت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جن کی روشنی میں ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔

Related Posts