صدر میکرون سے فرانسیسی نیشنل آرڈر آف میرٹ ایوارڈ پانے والے پاکستانی اخبار فروش علی اکبر کی کہانی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ شٹر اسٹاک)

پیرس کے مشہور لاطینی کوارٹر میں تقریباً پچاس سال سے زیادہ عرصے سے اخبار بیچنے والے 73 سالہ پاکستانی نژاد علی اکبر کو فرانس کے ایک اعلیٰ شہری اعزاز سے نوازا جا رہا ہے۔ یہ اعزاز فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی طرف سے دیا جائے گا، نیشنل آرڈر آف میرٹ کہلاتا ہے اور فرانس کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے شہر راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے علی اکبر 1973 میں فرانس منتقل ہوئے اور تب سے انہوں نے مقامی کیفے اور ریستورانوں کے سامنے اخبار بیچنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اپنے منفرد انداز، خوش مزاجی اور محنت کے ذریعے وہ پیرس کے شہریوں کے دل جیت چکے ہیں اور یوں شہر میں اخبار فروشوں کی گھٹتی ہوئی روایت کو زندہ رکھا ہے۔

علی اکبر نے سب سے پہلے معروف طنزیہ ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو کو سوربون یونیورسٹی کے طلباء اور قریبی اداروں میں فروخت کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جہاں ٹیلی ویژن نے خبریں پہنچانے کے لیے پرنٹ میڈیا کا مقابلہ شروع کیا تھا وہیں علی اکبر نے اپنے جاندار انداز اور لطائف کے ذریعے اخبار کی فروخت جاری رکھی۔

علی اکبر کا کہنا ہے کہ مجھے کاغذ کی خوشبو اور چھونے کا احساس بہت پسند ہے۔ مجھے ٹیبلیٹ یا ڈیجیٹل چیزیں پسند نہیں لیکن مجھے پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے چاہے وہ حقیقی کتابیں ہوں لیکن کبھی بھی اسکرین پر نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میری فروخت کا انداز مختلف ہے، میں مزاح پیدا کرتا ہوں تاکہ لوگ ہنسیں اور خوش ہوں، میں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا چاہتا ہوں نہ کہ ان کی جیبوں میں۔

اگرچہ ڈیجیٹل دور میں اخباروں کی فروخت کم ہو گئی ہے اور وہ صرف آٹھ گھنٹوں میں لگ بھگ 20 اخبارات ہی بیچ پاتے ہیں علی اکبر نے ہار نہیں مانی اور صحت اجازت دے تو وہ یہ کام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

لاطینی کوارٹر جہاں ایک زمانے میں مشہور فلسفیوں کے مطالعے کے لیے کتابیں بکتے تھیں آج وہاں فیشن بوتیک اور ریستورانوں کا غلبہ ہے علی اکبر وہ نادر شخصیت ہیں جو اس قدیم اور منفرد محلے کی اصل روح کو زندہ رکھتے ہیں۔

ان کے ایک وفادار گاہک ماری-لور کریئر نے کہا کہ علی اکبر ہمارے لیے ایک ادارے کی مانند ہیں۔ میں روزانہ ان سے لہ مونڈ خریدتی ہوں، بلکہ صرف اخبار نہیں کبھی کبھی ان کے ساتھ کافی پیتی ہوں کبھی دوپہر کا کھانا بھی ساتھ کھاتے ہیں۔

Related Posts