بنگلہ دیش انتخابات میں بی این پی کا سیاسی جادو چل گیا! جانیں اگلا وزیر اعظم کون بنے گا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 نشستوں میں سے تقریباً 209 سے 212 نشستیں حاصل کر لی ہیں جو کہ دو تہائی اکثریت سے زیادہ ہے۔

سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاءکے بیٹے اور چیئرمین بی این پی طارق رحمان ڈھاکا-17 اور بوگرہ-6 دونوں نشستوں پر فتح یاب ہوئے۔ وہ وزیراعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ پارٹی نے 151 نشستیں اپنے اکاؤنٹ میں ڈال کر سادہ اکثریت حاصل کی اور اب یہ تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

جماعت اسلامی کو تقریباً 60 سے 70 نشستیں ملی ہیں جبکہ نیشنل سیٹیزن پارٹی جیسی جماعتیں محدود کامیابی حاصل کر سکیں۔ جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کچھ حلقوں میں نتائج پر سوالات اٹھائے اور تاخیر کا ذکر کیا لیکن انہوں نے واضح کیا کہ وہ سرکاری اعلان کے بعد ردعمل دیں گے اور تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔

طارق رحمان نے فتح کے بعد اپنے کارکنوں اور حامیوں سے امن و امان کو برقرار رکھنے، کسی قسم کی ریلی یا جشن سے گریز کرنے اور خصوصی دعاؤں میں شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ خاص طور پر ملک کی نصف آبادی پر مشتمل خواتین کے حقوق اور ان کی فلاح پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی کا عزم ظاہر کیا۔

انتخابات کے ساتھ ہی ایک قومی ریفرنڈم بھی ہوا جس میں جولائی نیشنل چارٹر کے تحت آئینی اصلاحات کی تجاویز پر رائے دی گئی۔ ابتدائی غیر حتمی نتائج کے مطابق تقریباً 73 فیصد ووٹرز نے ان اصلاحات کی حمایت کی۔ یہ ریفرنڈم ملک کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لانے کا راستہ ہموار کرے گا۔

Related Posts