ممبئی: بھارت کی ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ انڈسٹری خاص طور پر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر نمایاں ہونے والے بولڈ مواد پر ایک بے باک اور سنجیدہ گفتگو حالیہ دنوں منظر عام پر آئی ہے جس میں معروف اداکارہ پریا گامرے اور ان کے پارٹنر لکی سینی نے میزبان پیو ش بھوتانی کے ساتھ ایک تفصیلی پوڈکاسٹ انٹرویو میں اپنے پیشہ ورانہ اور ذاتی تجربات پر روشنی ڈالی۔
یہ گفتگو محض ان کی اداکاری یا شہرت تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں بھارتی سوسائٹی کے دوغلے رویوں، خاندانی دباؤ، مذہبی حساسیت، اور ڈیجیٹل میڈیا کی مانگ جیسے موضوعات کو گہرائی سے چھوا گیا۔
انٹرویو میں انکشاف ہوا کہ کس طرح بھابھی دیور جیسے مواد کی مقبولیت نے ایک خاص قسم کے مواد کو مرکزی دھارے میں لا کھڑا کیا ہے اور کیوں نوجوان طبقہ شادی شدہ خواتین کو زیادہ پرکشش سمجھتا ہے۔
جب وہ کیمرے کے سامنے بولڈ سین کرتی ہیں تو وہ پریا گامرے نہیں ہوتیں بلکہ ایک کردار ہوتا ہے، ایک اسکرپٹ کا تقاضا، جسے ہم مکمل پیشہ ورانہ انداز میں ادا کرتے ہیں۔
دونوں نے تسلیم کیا کہ فیملیز کا ردعمل شروع میں سخت تھا۔ پریا نے بتایا کہ ان کی پہلی بولڈ ویڈیو کے بعد ان کی بہن کے ہونے والے شوہر تک یہ کلپ پہنچ گیا تھا، جس سے رشتہ تقریباً ختم ہونے کو آ گیا تھا۔
دوسری طرف، لکی نے کہا کہ انہوں نے والد سے پہلے اجازت لی تھی اور ان کے والد نے انہیں سراہا کہ یہ ایک اداکاری کا کردار ہے، نہ کہ کوئی غیر اخلاقی عمل۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کی او ٹی ٹی انڈسٹری میں بولڈ مناظر ایک ناگزیر تقاضا بن چکے ہیں۔
اگر آپ یہ مناظر کرنے سے انکار کریں، تو کام ملنا بند ہو جائے گا، لکی نے انکشاف کیا۔ ایک معروف بالی وڈ ڈائریکٹر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ آئندہ پانچ سالوں میں وہی فنکار کامیاب ہوں گے جو بولڈ کردار کرنے کو تیار ہوں گے۔
پریا نے یہ بھی کہا کہ انڈسٹری میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں:وہ جو صرف بولڈ سینز کے لیے آتے ہیں۔اور وہ جو اصل اداکاری کے جذبے سے آتے ہیں اور بولڈ سینز کو کردار کی ضرورت کے تحت قبول کرتے ہیں۔
انٹرویو میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی کہ معاشرے میں بولڈ مواد دیکھنا عام بات ہے، لیکن اس کا کھلے عام اعتراف ایک گناہ سمجھا جاتا ہے۔
پریا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ ہمیں ٹرول کرتے ہیں، وہی سب سے پہلے ہماری ویڈیوز بھی دیکھتے ہیں۔ اگر نہ دیکھتے تو تبصرے کیسے کرتے؟
ابتدائی ردعمل میں اگرچہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ دونوں فنکاروں کے گھر والوں نے ان کے کام کو قبول کیا۔
پریا کی بہن جو شروع میں شدید ناراض تھیں، اب ان کے حق میں بولتی ہیں اور کہتی ہیں کہ میری بہن ایک اچھی اداکارہ ہے، فلم دیکھنی ہے تو پوری دیکھو، صرف بولڈ سین نہ دکھاؤ۔
میزبان پیوش بھوتانی نے بھارت اور امریکہ کے جنسی رویوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کسی چیز سے منع کیا جاتا ہے، وہاں دلچسپی زیادہ بڑھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں جنسی مواد قانونی اور کھلے عام دستیاب ہے، اس لیے وہاں کے لوگ اسے عام سمجھتے ہیں، جب کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں جہاں پابندیاں زیادہ ہیں، وہاں یہی چیز جنون بن جاتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








