اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)نے سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر غیر قانونی اور اخلاق باختہ مواد کے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو سخت تنبیہ جاری کی ہے۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کا غیر قانونی، گمراہ کن، یا ملک دشمن مواد شیئر کرنا، اپ لوڈ کرنا یا پھیلانا الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔
اپنے بیان میں پی ٹی اے نے اس امر پر زور دیا کہ اظہارِ رائے ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن اس حق کا ناجائز استعمال جیسا کہ توہین مذہب، مذہبی شخصیات یا مذاہب کی تضحیک، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد، افواہیں، جھوٹی خبریں، یا فحش اور غیر اخلاقی مواد کی تشہیرسخت قانونی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف قانون شکنی ہیں بلکہ قومی سلامتی، سماجی ہم آہنگی اور عوامی نظم و ضبط کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
اتھارٹی نے خاص طور پر ان عناصر کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی ہے جو مسلح افواج یا دیگر قومی اداروں کو بدنام کرنے کی منظم کوششوں میں ملوث ہیں۔
پی ٹی اے نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی مشتبہ، غیر قانونی یا قابلِ اعتراض مواد کی شکایت موبائل ایپ کے ذریعے فوری طور پر درج کریں۔
پی ٹی اے نے حالیہ دنوں میں عوام کو ایک اور بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ سے خبردار کیا ہے، جس میں جعلساز خود کو کورئیر کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے صارفین کو جعلی پیغامات، لنکس یا کوڈز بھیجتے ہیں۔
ان پیغامات کا مقصد عوام سے نجی معلومات، بینک تفصیلات، یا ویریفیکیشن کوڈ حاصل کرکے ان کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
اتھارٹی نے زور دیا کہ ایسی کسی بھی کال یا پیغام پر ہرگز یقین نہ کیا جائے اور کسی بھی صورت میں ویریفیکیشن کوڈ یا نجی معلومات کسی کو نہ دی جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








