کراچی:اداکارہ عائشہ عمر کو ہمیشہ کھری باتیں کرنے، سماجی مسائل اور خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے، یوٹیوب چینل پر ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بولڈ خاتون کا مطلب بہادر اور خود مختار عورت ہے۔
دوران انٹرویو عائشہ عمر کا کہنا تھا کہ جب وہ محض 2 سال کی تھیں تو ان کے والد انتقال کر گئے تھے اور ان کی والدہ کراچی سے لاہور شفٹ ہوگئیں اور وہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔اداکارہ کے مطابق چوں کہ ان کی والدہ ایک ٹیچر تھیں، اس لیے انہیں مہنگے اسکول میں پڑھانا مشکل تھا۔
لیکن خوش قسمتی سے انہیں لاہور کے ایک مہنگے گرامر اسکول میں اسکالر شپ مل گئی۔عائشہ عمر کے مطابق انہوں نے بچپن میں سختیاں اور محرومیاں بھی دیکھیں اور انہوں نے کم آمدنی کی وجہ سے اسکالر شپ پر تعلیم مکمل کی اور بعد ازاں انہوں نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) سے گریجویشن کیا۔
عائشہ عمر نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کے مقبول ڈرامے بلبلے کی کامیابی کا راز ڈرامے کے چاروں کرداروں کا مسلسل کام کرنا ہے۔ان کے مطابق اگر مذکورہ ڈرامے میں دکھائی گئے چاروں مرکزی کرداروں میں سے کوئی ایک بھی کردار کام چھوڑ دے تو ڈراما بھی کمزور پڑ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں بلبلے کرتے ہوئے 11 سال ہوچکے ہیں اور وہ اس کی 600 تک قسطیں بنا چکے ہیں۔لباس پہننے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ دوسروں کو متاثر یا خوش کرنے کے لیے لباس نہیں پہنتیں، البتہ تقریبات کو نظر میں رکھتے ہوئے کبھی کبھار اس مناسبت سے لباس ضرور پہنتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسا لباس پہننے کو ترجیح دیتی ہیں جس میں وہ خود کو پرسکون اور آرام دہ محسوس کریں۔بولڈ خاتون کسے کہا جاتا ہے؟ کہ سوال کے جواب میں اداکارہ نے کہا کہ بولڈ خاتون کا مطلب بہادر اور خود مختار عورت ہے۔
عائشہ عمر کے مطابق پدرشاہانہ سماج میں لوگوں کا خیال ہے کہ ایک عورت یا لڑکی کو سہما ہوا ہونا چاہیے، اسے انفرادی طور پر مضبوط نہیں ہونا چاہیے، اس لیے بعض لوگ بہادر اور خود مختار عورت کو بولڈ کہتے ہیں۔عائشہ عمر کا انٹرویو دو حصوں میں نشر کیا گیا، جس میں سے پہلے حصے کو 12 جنوی کو ریلیز کیا گیا۔