ادکارہ کترینہ کیف کی نجی تصاویر لیک کرنے پر طوفان! بالی وڈ اسٹارز اور فینز کی کڑی تنقید

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بالی وُڈ اداکارہ کترینہ کیف کی نجی زندگی ایک بار پھر غیر اخلاقی فوٹو لیک کے باعث سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئی۔ اداکارہ جو اپنے پہلے بچے کی پیدائش سے قبل کے آخری مراحل میں ہیں کی چند ذاتی تصاویر ایک میڈیا پورٹل کی جانب سے ان کی مرضی کے بغیر آن لائن شیئر کر دی گئیں۔

یہ تصاویر ممبئی میں ان کے گھر کی بالکونی سے خفیہ طور پر کھینچی گئیں جن میں 42 سالہ کترینہ کو ایک سادہ پھولدار لباس میں آرام کرتے دیکھا جا سکتا ہے اور ان کا بے بی بمپ واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

Image

یہ تصاویر سب سے پہلے زوم ٹی وی نامی پورٹل نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیں اور لکھا کہ کترینہ کیف ڈلیوری سے پہلے پہلی بار بالکونی میں نظر آئیں تاہم عوامی ردِعمل اور سخت تنقید کے بعد پوسٹ فوری طور پر ڈیلیٹ کر دی گئی۔

Image

شوبز اور مداحوں کا شدید ردِعمل

اس واقعے نے اداکاراؤں کی پرائیویسی پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے خاص طور پر ان کے لیے جو حمل یا دیگر حساس مراحل سے گزر رہی ہیں۔

کترینہ اور ان کے شوہر وکی کوشل نے 2021 میں شادی کی تھی اور ستمبر 2025 میں اپنی پریگنینسی کا اعلان کیا تھا۔ دونوں نے اب تک اس واقعے پر کوئی عوامی بیان نہیں دیا لیکن مداحوں، صارفین اور بالی وُڈ شخصیات کی جانب سے سخت غم و غصہ ظاہر کیا گیا۔

اداکارہ سوناکشی سنہا نے براہِ راست تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ آپ سب کو ہو کیا گیا ہے؟ کسی عورت کی اپنے گھر کی بالکونی میں تصاویر کھینچنا اور انہیں عام پلیٹ فارم پر پوسٹ کرنا؟ یہ جرم ہے شرم آنی چاہیے۔

ان کے بیان کے بعد دیگر اداکاروں اور صارفین نے بھی اس رویے کو شرمناک اورخطرناک رجحان قرار دیا۔ کئی صارفین نے عالیہ بھٹ اور جھانوی کپور کے ساتھ پیش آئے ایسے ہی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر پرائیویسی کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟

قانونی پہلو

قانونی ماہرین کے مطابق اس واقعے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور آئین کے آرٹیکل 21 (حقِ پرائیویسی) کی واضح خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اگرچہ ممبئی پولیس نے ابھی تک کسی باقاعدہ شکایت کی تصدیق نہیں کی لیکن سوشل میڈیا پر #PrivacyMatters اور #ShamefulAct جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے عوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف کترینہ کیف کی نجی زندگی میں مداخلت کی ایک اور مثال ہے بلکہ بالی وُڈ کے فوٹوگرافرز اور میڈیا کی اخلاقی حدود پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔

Related Posts