کراچی: یونیورسٹی روڈ پر طویل عرصے سے تاخیر کا شکار بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن منصوبے کے ایک حصے کے ٹھیکیدار نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے لاگت میں غیرمعمولی اضافے اور دانستہ تاخیر کے الزامات عائد کیے ہیں۔ کنٹریکٹر کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کی لاگت 3 ارب سے 13ارب تک جا پہنچی ہے۔
بدھ کے روز درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹھیکیدار نے دعویٰ کیا کہ جس سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ ان کی کمپنی کو ابتدا میں 3 ارب روپے میں دیا گیا تھا، اب وہی کام حکومت 13 ارب روپے میں کروا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ “حکومت میں کچھ لوگ پیسہ بنانے کیلئے یہ سب کچھ کرتے رہے”، تاہم انہوں نے کسی فرد کا نام نہیں لیا۔
انہوں نے پنجاب میں ہونے والے انفراسٹرکچر منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “پنجاب میں ہزارہ موٹروے سمیت کئی منصوبے مکمل کر لیے گئے، مگر سندھ میں یہ صورتحال رہی”، جس سے ان کا اشارہ بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل میں صوبائی فرق کی جانب تھا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے میں غیرمعمولی تاخیر کی وجوہات جاننے اور ذمہ دار افسران کی نشاندہی کیلئے انکوائری کمیشن قائم کیا جائے۔
واضح رہے کہ بی آر ٹی منصوبے کا اعلان 2016 میں کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اسے 2022 تک مکمل ہونا تھا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے بننے والے اس منصوبے میں فنڈنگ مسائل، ڈیزائن میں تبدیلیوں، ٹھیکیداروں کے تنازعات اور یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی میں تاخیر کے باعث بار بار ڈیڈ لائن میں توسیع کی گئی۔
کراچی کے شہریوں کیلئے اس تعمیراتی کام نے کئی برسوں سے گردوغبار، ٹوٹی ہوئی سروس روڈز، شدید ٹریفک جام اور یونیورسٹی روڈ پر حادثات کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ یہ سڑک مختلف جامعات، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو ملانے والی اہم شاہراہ سمجھی جاتی ہے۔ تاجروں اور مسافروں نے متعدد بار احتجاج کرتے ہوئے اسے “ترقیاتی مفلوجی” قرار دیا اور کہا کہ مسلسل جاری تعمیرات نے کاروبار اور روزمرہ آمدورفت دونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








