بزنس ٹائیکو ن ایلون مسک بھی منشیات کے عادی نکلے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ دی آسٹریلین)

دنیا کے معروف صنعتکار، اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک ایک بار پھر میڈیا کی سرخیوں میں ہیں، مگر اس بار وجہ ان کی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ منشیات سے متعلق الزامات ہیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران مسک الیکشن کیمپین کے دوران منشیات کا استعمال کرتے رہے ہیں تاہم، ایلون مسک نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف کسی بھی نشہ آور دوا کا باقاعدہ استعمال نہیں کرتے، بلکہ ان کا طرز زندگی اور کام کا تسلسل ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایسے کسی طرزِ عمل سے دور ہیں جو ان کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر منشیات واقعی مثبت اثر ڈال سکتیں تو شاید وہ اس پر غور کرتے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

مسک نے اس حوالے سے ایک اہم نکتہ بھی اٹھایا کہ ناسا کے ساتھ معاہدوں کے باعث انہیں ماضی میں تین سال تک باقاعدگی سے منشیات اور الکحل کے ٹیسٹ دینا پڑے جن میں کبھی بھی کسی نشہ آور شے کا سراغ نہیں ملا۔ 2018 میں جو روگن کے پوڈکاسٹ میں مارِیجوانا کے ایک کش کے بعد ان پر سوالات اٹھے تھے، جس کے بعد ان کی ہر حرکت زیرِ غور رہی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ماضی میں کیٹامین کا محدود استعمال انہوں نے ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے کیا تھا، لیکن اب وہ اس سے بھی مکمل طور پر گریز کرتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک پر منشیات کے استعمال کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی علم نہیں تھا۔

اگرچہ ٹرمپ نے مسک کی حمایت جاری رکھی ہے، لیکن ان الزامات نے سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ٹرمپ اور مسک کی سیاسی شراکت داری پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب مسک کی عوامی شبیہ اور ذہنی صحت کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Related Posts