مری کے کیڈٹ کالج کے 4طلباء کی 7ویں جماعت کے طالب علم سے جنسی زیادتی

تازہ ترین

تازہ ترین

مری کے کیڈٹ کالج کے 4طلباء کی 7ویں جماعت کے طالب علم سے جنسی زیادتی
مری کے کیڈٹ کالج کے 4طلباء کی 7ویں جماعت کے طالب علم سے جنسی زیادتی

اسلام آباد: گزشتہ رات پنجاب پولیس کی بھاری نفری اور کمانڈوزنے نجی کیڈٹ کالج کمپنی باغ سے یرغمال 7پولیس اہلکاروں کو بازیاب کروا کر 48 گھنٹوں میں تھانہ مری میں کیڈٹ کالج کمپنی باغ واقعہ پر زنا اور کار سرکار میں مداخلت کے دو الگ الگ مقدمات درج کرلئے۔

پولیس ٹیم کو مبحوس رکھنے والے با اثر نجی کالج مالکان اور انتظامیہ کو گرفتار کرنے میں ناکام جبکہ زنا کاری کے مقدمہ میں نامزد دو ملزم حسن اور سعودکو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ مری میں محمد عمران نامی لاہور کے باسی نے مورخہ 19 اکتوبر کو مقدمہ درج کرایا کہ کیڈٹ کالج گھوڑا گلی مری کی ساتویں کلاس میں زیر تعلیم اس کے بیٹے کے ساتھ دیگر 4طالب علموں نے زبردستی زنا کیا۔

پولیس مقدمہ اندراج کے بعد جمعرات صبح مجرمان کی گرفتاری کیلئے مذکورہ کالج گئی تو کالج مالکان کی ایماء پر کالج ملازمین اور مقدمہ میں نامزد ملزمان سمیت دیگر بچوں نے پولیس ٹیم پر دھاوا بول دیا۔ سات نفوس پر مشتمل پولیس ٹیم کو کالج انتظامیہ نے یرغمال بنا لیا۔

تااہم پولیس کال پر ایس پی مری فیصل سلیم بھاری نفری اور کمانڈوز کے ساتھ موقع پر پہنچے تو مذاکرات کیلئے کالج کے اندر گئے اور مذاکرات رات دو بجے تک جاری رہنے کے بعد دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ مالکان کو موقع سے مذکرات کے بعد فرار کروا دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق 6گاڑیوں پر کمانڈوز اور نصف درجن پنجاب پولیس کی گاڑیوں میں 80سے زاہد اہلکاروں کی بھاری نفری کے ہمراہ موجود رہنے والی پولیس کار سرکار میں مداخلت کے مرتکب نجی کالج مالکان اور کلپرٹ کو گرفتار کئے بغیر خالی ہاتھ لوٹ آئی۔

مزید پڑھیں:خاتون کو گندے میسیجز بھیجنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا

افسوسناک امر یہ ہے کہ اعلیٰ پولیس افسران موقع پر موجود کالج کے مالک عبد الوحید بردی اور پرنسپل محمد آفتاب کو گرفتار کرنے کی بجائے ان سے مذاکرات کرتے رہے۔

Related Posts