کیا ایران بھی پاک سعودیہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

تینوں ملکوں کے جھنڈے، فائل فوٹو

پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے ممالک اس میں شامل ہوں گے۔

حال ہی میں ریاض میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں دونوں ممالک کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت موجود تھی۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا گیا تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور نہ صرف مشترکہ دفاع کیا جائے گا بلکہ دشمن پر جوابی وار بھی کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے بعد اسرائیل اور بھارت میں خاصی کھلبلی مچ گئی ہے اور دونوں ممالک کے میڈیا میں اس پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف اسلامی دنیا میں اس معاہدے کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ مکہ اور مدینہ تمام مسلمانوں کے لیے مقدس مقامات ہیں اور ان کا دفاع ہر مسلمان اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

پاکستان سعودیہ معاہدے کے بعد اہم ترین اسلامی ملک کے ساتھ مشترکہ فوج بنانے پر غور کی اطلاعات

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایران اس معاہدے سے خوش نہیں ہوگا، تاہم ایران کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاریخی طور پر ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں لیکن اب دونوں ممالک نے زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے تعلقات بہتر بنائے ہیں۔ اس وقت دونوں کے درمیان اچھے روابط قائم ہیں۔

اسی تناظر میں ایران اور دیگر ممالک بھی اس دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ چونکہ ایران بھی اسرائیل کا ہدف ہے، اس لیے وہ بھی پاکستان جیسے ایٹمی ملک کے ساتھ سعودی عرب کی طرح کا دفاعی معاہدہ چاہے گا۔ لیکن فی الحال پاکستان کے لیے یہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ ایران پر امریکی پابندیاں عائد ہیں اور ایسے معاہدے سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

ایک ممکنہ منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے مکمل خاتمے کا اعلان کرے اور امریکی پابندیوں سے نکل آئے۔ اس کے بعد وہ ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر سکتا ہے، جس سے پاکستان پر امریکی دباؤ بھی نہ ہوگا اور ایران کو ایک ایٹمی قوت کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگی۔

مزید برآں موجودہ عالمی حالات میں پاکستان اور ایران کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان اور ایران امریکی ردعمل کو نظرانداز کرتے ہوئے دفاعی معاہدے پر آگے بڑھیں اور سعودی عرب کو بھی اعتماد میں لیں۔

دوحہ پر اسرائیلی حملے نے مسلم اُمہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان سعودی معاہدہ اسی بیداری کا نتیجہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سلسلہ اب رکے گا نہیں کیونکہ مسلم ممالک سمجھ گئے ہیں کہ اگر وہ متحد نہ ہوئے تو اسرائیل انہیں ایک ایک کر کے نشانہ بنائے گا۔

Related Posts