پاکستان اور سعودیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری معاہدے کے بعد ایک اور اہم اسلامی ملک کے اس معاہدے میں شمولیت یا پاکستان کے ساتھ اسی طرح کے معاہدے کا امکان سامنے آگیا ہے۔
عرب امور کے معروف پاکستانی تجزیہ کار علی ہلال نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل کی ممکنہ جارحیت کے پیش نظر پاکستان اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی فوج تشکیل دینے کی تجویز پر بات چیت جاری ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق اس تجویز کو ابتدائی طور پر دوحہ سمٹ میں زیرِ بحث لایا جانا تھا، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کے بعد اس تجویز پر عملی پیش رفت شروع ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوجی بجٹ تیار کرنے والی یاگل کمیٹی کی ایک رپورٹ میں ترکی کے ساتھ ممکنہ جنگ کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے بعد یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اسرائیل کا اگلا ہدف ترکی ہوسکتا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق پاک-ترک دفاعی تعاون نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئے سکیورٹی فریم ورک کی بنیاد ثابت ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاک سعودیہ معاہدے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ دوسرے عرب اور اسلامی ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں، اس سلسلے میں قطر کی شمولیت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف سعودیہ کے بعد قطر اور اب خلیج کے ایک اور ملک کُوَیت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کی حوصلہ افزائی پر مبنی رجزیہ ترانہ جاری کیا گیا ہے، جس کو بہت پسند کیا جا رہا ہے۔
ان ترانوں سے بھی اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ جلد قطر اور کویت بھی پاکستان کے ساتھ کسی معاہدے میں نتھی ہونے کی طرف پیشرفت کرسکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








