سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی بات چیت نے رفتہ رفتہ محبت کی شکل اختیار کی تو کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون پاکستان پہنچ گئیں اور لوئر دیر کے رہائشی نوجوان سے نکاح کر لیا۔ اس غیر معمولی شادی کی خبر سامنے آنے پر مقامی سطح پر بھی خوشی کا اظہار کیا گیا۔
لوئر دیر پولیس کے ایک اہلکار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی خاتون اور مقامی نوجوان نے عدالت میں پیش ہو کر باہمی رضامندی سے شادی کی ہے۔ دونوں فریقوں نے قانونی تقاضے پورے کیے اور نکاح کا مذہبی فریضہ خوشی کے ساتھ سرانجام دیا گیا۔
مقامی پولیس کے مطابق خاتون تقریباً ایک ہفتہ قبل اسلام آباد پہنچی تھیں جہاں لڑکے کے اہل خانہ اور قریبی عزیزوں نے ان کا خیر مقدم کیا۔ چند روز دارالحکومت میں قیام کے بعد وہ لوئر دیر کے علاقے تیمرگرہ منتقل ہوئیں، جہاں انہوں نے ایک مقامی ہوٹل میں رہنے کا انتظام کیا۔
اہلکار نے بتایا کہ لڑکے کے خاندان کی خواہش تھی کہ یہ شادی زیادہ تشہیر کے بغیر انجام پائے، اسی وجہ سے آبائی گاؤں دیر میدان کے بجائے تیمرگرہ کا انتخاب کیا گیا۔ اسی شہر میں نکاح کی تقریب سادہ انداز میں منعقد ہوئی اور جوڑا ہوٹل میں مقیم رہا۔
کینیڈین خاتون سارہ مشیل کی سوشل میڈیا پر تیمرگرہ ( خیبرپختونخوا) کے لڑکے سے دوستی ہوئی، اس کے پیچھے کینیڈا سے ٹورسٹ ویزے پر پاکستان آئیں اور دونوں نے شادی کر لی ہے۔ pic.twitter.com/Pwg8u3AOx1
— Muhammad Zeeshan Awan (@surrakimuhammad) April 24, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ نوجوان غیر ملکی خاتون کو ساتھ لے کر مقامی مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوا اور نکاح کے لیے درکار تمام دستاویزات جمع کروائیں۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ دونوں اپنی آزاد مرضی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ قانونی اجازت ملنے کے بعد باقاعدہ نکاح پڑھا دیا گیا۔
پولیس افسر کے مطابق دیر میدان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث خاتون کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے نکاح کے بعد بھی جوڑا تیمرگرہ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریب کو محدود رکھا گیا اور قریبی رشتہ داروں کو بھی مدعو نہیں کیا گیا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ وہ خود موقع پر موجود تھے اور دونوں بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








