کینسر کے علاج کی ادویات سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ماہرین

تازہ ترین

تازہ ترین

کینسر کے علاج کی ادویات سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ماہرین
کینسر کے علاج کی ادویات سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ماہرین

واشنگٹن: امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے علاج کی ادویات سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں، خصوصاً پراسٹیٹ کینسر کے علاج کیلئے ہارمون تھراپی کا انتخاب کرنے والوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہارمون تھراپی کرانے والے ایسے مریض جو کسی دوسرے طریقے سے علاج نہیں کراتے، ان میں طبی پیچیدگیوں کے زیادہ خطرات پائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:

نقطۂ انجماد اور شدید ترین گرمی میں کام کرنے والی بیٹری متعارف

مشی گن میڈیسن کے محققین نے پایا کہ جن مردوں نے پراسٹیٹ کینسر کیلئے 2 سب سے عام کھانے کی دوائیوں میں سے ایک لینے کے علاوہ ہارمون تھراپی کرائی، ان مں قلبی مسائل کا خطرہ صرف ہارمون تھراپی کرانے والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔

ان افراد کے مقابلے میں جو صرف ہارمون تھراپی کروا رہے تھے، ابیریٹرون استعمال کرنے والے مریضوں کے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا دل کی بیماری کیلئے ہسپتال داخل ہونے کا امکان دیگر مریضوں کے مقابلے میں 1.77 گنا زیادہ پایا گیا۔

قبل ازیں کلینیکل ٹرائلز میں کینسر کی دو دواؤں ابیریٹرون اور اینزلوٹامائیڈ کو عموماً محفوظ دکھایا گیا، تاہم محققین نے دونوں دواؤں کا ازسرِ نو جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ٹرائلز میں حصہ لینے والے مریض حقیقی دنیا کے مریضوں کی نمائندہ نہیں تھی۔

مثال کے طور پر معالعے میں شریک مریض صرف میڈیکیئر کے مریض تھے اور زیادہ تر مرد ان لوگوں سے کہیں زیادہ بوڑھے ہوتے ہیں، جس کے بعد تحقیق کا دائرہ وسیع کیا گیا اور دونوں ادویات کو مختلف زاویوں سے پرکھ کر نتائج اخذ کیے گئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ درجے کے پراسٹیٹ کینسر کا شکار افراد کو مذکورہ دونوں ادویات کے استعمال میں احتیاط برتنا ہوگی جبکہ پراسٹیٹ کینسر کے بے شمار مریض طویل عرصے سے مذکورہ دو ادویات استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ 

Related Posts