کیپٹن محمد سرور شہید کا 76واں یومِ شہادت آج منایا جارہا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

نشانِ حیدر پانے والے قوم کے پہلے سپوت کیپٹن سرور کا 74واں یومِ شہادت
نشانِ حیدر پانے والے قوم کے پہلے سپوت کیپٹن سرور کا 74واں یومِ شہادت

ملک بھر میں نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے پہلے سپاہی کیپٹن محمد سرور شہید کا 76واں یومِ شہادت آج منایا جارہا ہے۔ قوم کے عظیم سپوت نے مادرِ وطن کیلئے بے جگری سے لڑتے ہوئے جان قربان کردی۔ 

تفصیلات کے مطابق قیامِ پاکستان کے اگلے ہی سال 1948ء میں جنگِ کشمیر کے دوران شہید ہونے والے کیپٹن محمد سرور نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ قوم کیپٹن محمدسرور کی خدمات ہمیشہ یاد رکھے گی۔آج کیپٹن سرور کی شہادت کو 76 برس مکمل ہوگئے جس کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے قبل راولپنڈی کے گاؤں سنگھوری میں جنم لینے والے کیپٹن محمد سرور شہید کی عمر شہادت کے وقت 37  سال تھی۔ کیپٹن سرور نے سن 1929ء میں فوج میں سپاہی کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینا شروع کیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے چلے گئے۔

ملک کے قیام سے 3 سال قبل  1944ء میں کیپٹن محمد سرور کو پنجاب رجمنٹ میں شامل کیا گیا اور انہوں نے برطانیہ کی طرف سے دوسری جنگِ عظیم میں شرکت کی۔ سن 1946ء میں انہیں کیپٹن بنایا گیا اور جب پاکستان قائم ہوا تو کیپٹن محمد سرور پاک فوج  میں شمولیت اختیار کرنے والے فوجیوں میں شامل ہوگئے۔

شمولیت کے بعد  کشمیر میں آپریشن سن 1948ء میں ہوا جس کے دوران انہوں نے گلگت بلتستان اور لداخ کی طرف سے بھارت کو پسپا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور جنگ کے دوران جب دشمن ملک کی فوج نے خاردار تاریں استعمال کرتے ہوئے کیپٹن محمد سرور کا راستہ بند کردیا تو انہوں نے وہ تاریں کاٹ ڈالی تھیں۔

اسی دوران ہی دشمن نے ان پر گولے برسانا شروع کردئیے۔ شدید گولہ باری کے باعث کیپٹن محمد سرور زخمی ہو گئے۔ 27 جولائی 1948ء کیپٹن محمد سرور کی شہادت کا دن ہے جب محمد سرور کی بٹالین اڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم پوزیشن کو ہدف بنانے میں کامیاب رہی۔

مادرِ وطن کے عظیم سپوت  نے وطن کی حرمت پر جان دے دی۔ دشمن کی طرف سے کیپٹن سرور کو شہید کیے جانے کے بعد مجاہدین نے دشمن پر بھرپور حملہ کرکے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ آج اسی یومِ شہادت کی یاد میں کیپٹن محمد سرور شہید کو خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔

Related Posts