نیو یارک: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو منظم کرنے کی کوشش کررہا ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوجائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو تو جنوبی ایشیا میں قیامِ امن ممکن ہے۔ بھارت نے 5 اگست کو کشمیر کی متنازعہ حیثیت یکطرفہ طور پر ختم کی جو غیر قانونی عمل ہے۔بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔
کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان امن کی کنجی ہے، نگران وزیراعظم
خطاب کے دوران نگران وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو بہتر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پورے خطے کے متعلق ہمارا نقطہ نظر وسیع ہے۔
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ روزمرہ کے واقعات بعض اوقات ہمارے تعلقات کو خراب اور پیچیدہ بنا دیتے ہیں تاہم افغانستان کے ساتھ تعلقات کو اس طریقے سے منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کیلئے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوسکیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان امن کی کنجی ہے۔ عالمی برادری ہندوتواسے متاثرہ انتہاپسندوں سمیت تمام دہشتگردوں سے بلاامتیازنمٹے۔
آج سے 2 روز قبل نگران وزیر اعظم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اٹھہترویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتہاپسندوں اورفسطائی گروپوں نے بھارتی مسلمانوں اورعیسائیوں کے لئے نسل کشی کے خطرات پیداکئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








