اسلام آباد :شہر اقتدار اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری صفی الحسن کے خلاف گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
مسمات مریم دختر عثمان غنی ساکن کوٹ عبدالمالک لاہور نے ایم ایم نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا حقیقی والد پانچ سال قبل فوت ہوگیا تھا ،میرے سوتیلے والد کا نام باسط علی ہے اورمیرے والد نے مجھے ڈپٹی سیکریٹری صفی الحسن کے پاس سیکٹر ایف فائیو گھر میں بطور ملازم رکھوایا تھا ۔
مریم کاکہنا ہے کہ میری رہائش بھی ان کے گھر میں تھی اورمورخہ 12جنوری 2021کوگھر کے کام کاج درست نہ کرنے کی وجہ سے گھر کے مالک صفی الحسن نے میری دائیں ٹانگ پر ڈنڈا مار کر میری ٹانگ توڑ دی ۔
ان کا کہنا ہے کہ میری ٹانگ کا پہلے بھی آپریشن ہوا تھا اور مجھے معمولی علاج کے بعد گھر میں رکھا ہوا تھا اور بعد میں مجھے اپنے ڈرائیور ریاض کے ساتھ پولیس نے ہسپتال بھیج دیا ، ان کا کہنا ہے کہ صفی الحسن نے میری ٹانگ ناحق توڑی ہے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کمسن ملازمہ پر بہیمانہ تشدد کے سبب متاثرہ بچی کا میڈیکل پولی کلینک ہسپتال سے کروا لیا گیا ہے ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بچی کے ٹانگ ٹوٹنے کے علاوہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں تاہم پولیس تاحال ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔
مریم نے آئی جی پولیس اسلام آباد اور وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے انصاف دلایا جائے اور اس ظالم شخص کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔