فائرنگ کے واقعے کے بعد چمن بارڈر تجارت کے لئے تیسرے روز بھی بند

تازہ ترین

تازہ ترین

فائرنگ کے واقعے کے بعد چمن بارڈر تجارت کے لئے تیسرے روز بھی بند
فائرنگ کے واقعے کے بعد چمن بارڈر تجارت کے لئے تیسرے روز بھی بند

چمن: پاک افغان سرحد چمن بارڈر تیسرے روز بھی تجارت کے لیے بند ہے، دوستی گیٹ پر افغان اہلکار کی پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی شہید اور دو زخمی ہو ئے تھے۔

سرحد پار سے ہونے والے حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک سپاہی نے 13 نومبر کو جام شہادت نوش کیا اور دو مزید زخمی ہوئے، جس کے بعد پاکستانی حکام نے تجارتی سرگرمیاں روک دیں۔

ایک بیان میں، لیویز حکام نے کہا: ”دو طرفہ تجارت، پیدل آمدورفت اور سرحد پر امیگریشن کا نظام تیسرے روز بھی معطل ہے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ فائرنگ کرنے والے دہشت گرد نے طالبان اہلکار کی وردی پہن کر یہ کارروائی کی۔ ”اس شخص کی تلاش جاری ہے۔”

افغان ضلع اسپن بولدک سے ملحقہ چمن قصبے کے ڈپٹی کمشنر عبدالحمید زہری کے مطابق افغانستان میں قید پاکستانیوں کو شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ڈی سی نے کہا کہ پاکستان افغانستان سرحد پر موجودہ مسائل پر بات چیت کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ ڈی سی نے مزید کہا کہ سرحد کے قریبی علاقوں کے ساتھ ساتھ ضلع کے ہسپتال کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فائرنگ کا تبادلہ شام کو دوبارہ شروع ہوا جو کچھ دیر تک جاری رہا، اطلاعات کے مطابق حکام کے مطابق سرحدی علاقے میں وقفوں کے ساتھ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

ڈی سی زہری نے کہا: ”افغانستان کے ساتھ سرحد اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک کہ پاکستانی فوجی کو گولی مار کر شہید کرنے والے مسلح شخص کو حوالے نہیں کیا جاتا۔”

مزید پڑھیں:چمن بارڈر بدستور بند، طالبان کا پاکستانی اہلکار کے قتل میں ملوث افراد کی تلاش کا اعلان

جام شہادت نوش کرنے والے فرنٹیئر کور کے سپاہی کی شناخت رحمت اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کی نماز جنازہ ایف سی ہیڈ کوارٹر چمن میں ادا کی گئی، میت آبائی شہر روانہ کی گئی۔

Related Posts