دریائے چناب میں سیلاب سے صورتحال خراب، گجرات میں پانی کا ریلا دو منزلہ عمارت گرا گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Chenab in high flood at Qadirabad, Marala and Khanki
FILE PHOTO

دریائے چناب میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ہیڈ قادرآباد، ہیڈ مرالہ اور ہیڈ کھنکی پر اونچے درجے کا سیلاب دیکھا جا رہا ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہیڈ قادرآباد پر پانی کا اخراج 5 لاکھ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے جبکہ ہیڈ مرالہ پر 4 لاکھ 15 ہزار کیوسک اور ہیڈ کھنکی پر 5 لاکھ 56 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دریائے راوی میں بھی پانی کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں ہیڈ سدھنائی پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 52 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا ہے، جبکہ جسر اور شاہدرہ کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔

اسی طرح دریائے ستلج پر بھی دباؤ برقرار ہے، گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر یہ اخراج ایک لاکھ 32 ہزار کیوسک ہے۔

دوسری جانب دریائے سندھ کے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ حکام کے مطابق مسلسل بڑھتے پانی کے بہاؤ نے نشیبی علاقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

پنجاب پولیس کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق اب تک 3 لاکھ 43 ہزار 605 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو بھی ڈوبتے ہوئے دیہاتوں سے نکالا جا رہا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر نقصان سے بچا جا سکے۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے کہا کہ سیلابی پانی میں پھنسے خاندانوں کو ڈھونڈنے اور نکالنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مختلف مقامات پر قائم کیے گئے ریلیف کیمپوں میں متاثرین کو کھانا، پانی اور روزمرہ ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق 16 ہزار سے زائد اہلکار اور 765 گاڑیاں اس وقت امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

گجرات کے علاقے جلالپور جٹاں میں ایک خالی دو منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی۔ پولیس کے مطابق اس عمارت کی بنیادیں حالیہ سیلابی پانی سے کمزور ہو گئی تھیں اور دباؤ برداشت نہ کرنے کے باعث پوری عمارت منہدم ہوگئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمارت خالی تھی، اس لیے حادثے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم مقامی افراد کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کمزور اور پانی سے متاثرہ عمارتوں کے قریب جانے سے گریز کریں تاکہ ممکنہ حادثات سے بچا جا سکے۔

Related Posts