مئی سے پہلے واپس کیے گئے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہیں۔چیف جسٹس

تازہ ترین

تازہ ترین

ایک آزاد عدلیہ آئین کا ایک اہم جزو ہے، چیف جسٹس
ایک آزاد عدلیہ آئین کا ایک اہم جزو ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ مئی سے پہلے واپس کیے گئے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ  3 رکنی بینچ کے ججز جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

 اگست کے دوران سب سے زیادہ دہشت گردی ہوئی۔رپورٹ

نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ریفرنس واپسی کی وجوہات سے پتہ چلتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس طرف ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل کے متعلق استفسار کیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ بیرونِ ملک ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی؟ نیب نے مئی تک واپس کیے گئے ریفرنسز کی وجوہات بیان کیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس طرف ہے اور مئی تک کس کس کے ریفرنس واپس ہوئے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی جبکہ دوسری جون میں کی گئی۔ مئی سے قبل واپس کیے گئے ریفرنسز نیب کے پاس ہیں، نیب کی طرف سے ان سوالات کا جواب کون دے گا؟کیا کوئی ایسی شق ہے جس کے تحت مقدمات دیگر فورمز کو دئیے جائیں؟

ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ترامیم کے بعد نیب کا بہت سا کام نمٹ گیا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ نیب کے پاس مقدمات دیگر اداروں کو بھجوانے کا اختیار نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ مقدمات دیگر فورمز کو دینے کیلئے قانون ضروری نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو مقدمات قائم کردئیے گئے، وہ کسی نہ کسی فورم پر تو جائیں گے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نیب قانون سے استثنیٰ نہیں۔ آرٹیکل 209 کے تحت جج برطرف کیا جاسکتا ہے، ریکوری کا امکان نہیں۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاستی اثاثوں میں بدعنوانی ہو، اسمگلنگ یا سرمائے کی غیر قانونی منتقلی، اس پر قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ کرنا مایوس کن امر ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ عوام کو خوشحال اور محفوظ بنائے۔ 

Related Posts