سپریم کورٹ، چیف جسٹس کا عمران خان کو دفاع کا حق نہ دینے پر برہمی کا اظہار

تازہ ترین

تازہ ترین

ملکی سالمیت کیلئے پاک فوج کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔چیف جسٹس
ملکی سالمیت کیلئے پاک فوج کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے عمران خان کو دفاع کا حق نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو دفاع کا کون سا موقع دیا گیا ہے؟ ان کے مؤقف کی تو سماعت ہی نہیں ہوئی۔

آج سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی اپیل کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل 3رکنی بینچ نے کی۔

یہ بھی پڑھیں:

مختلف شہروں میں بارش، راولپنڈی میں رین ایمرجنسی نافذ

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دئیے کہ عمران خان کو انصاف کے مواقع دستیاب ہیں جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا عمران خان یہاں کہیں موجود ہیں؟ مجھے تو نظر نہیں آرہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سے اظہارِ برہمی کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم عدالت میں ہے یا جیل میں؟ یہ مذاق نہ کریں۔ ٹرائل کورٹ نے 3 دفعہ کیس کال کیا اور پھر ملزم کو سزا سنا دی۔ عمران خان کے مؤقف کو تو سنا ہی نہیں گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا فوجداری مقدمات کی سماعت اس طرح کی جاتی ہے کہ ایک ہی روز میں سزا دے دی جائے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کا حق نہیں کہ اپنا دفاع کرے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ دفاع کا حق لازمی دینا ہوتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو اتنی کیاجلدی تھی؟ صفائی کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ ماتحت عدالت نے اپنے ہی کالعدم فیصلے کی بنیاد پر فیصلہ کیسے کیا؟چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلے میں غلطیاں ثابت ہوچکی ہیں۔

جسٹس مظاہر نقوی کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔ کیا اس طرح ہر کیس کے فیصلے ہوتے ہیں؟ بعد ازاں عدالت نے سماعت جمعے کے روز تک ملتوی کردی۔

Related Posts