اسلامی نظریاتی کونسل نے پاکستان میں انسانی دودھ بینک کے قیام کی اصولی اجازت دے دی ہے تاہم واضح کیا گیا ہے کہ یہ نظام صرف سخت شرعی اور قانونی شرائط کے تحت ہی چلایا جا سکے گا۔
کونسل نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ اس پورے نظام کے لیے ایک واضح قانونی ڈھانچہ تیار کرنا ضروری ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال سے بچا جا سکے اور اسلامی احکامات کی مکمل پابندی یقینی بنائی جا سکے۔
فیصلہ اسلام آباد میں منعقدہ اسلامی نظریاتی کونسل کے 243ویں اجلاس میں کیا گیا جہاں اراکین نے سندھ حکومت کی جانب سے بھیجی گئی ایک درخواست کا تفصیلی جائزہ لیا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں پہلا انسانی دودھ بینک 2023 میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونٹولوجی نے یونیسف کے تعاون سے قائم کیا تھا تاہم مذہبی اعتراضات اور عوامی تنقید کے بعد اسے عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔
کونسل نے واضح کیا ہے کہ اس نظام میں ایک سخت اصول پر عمل کیا جائے گا جس کے مطابق ایک ڈونر صرف ایک ہی بچے کو دودھ فراہم کرے گا اور دودھ کی کسی بھی قسم کی مکسنگ یا پولنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ مکمل اور شفاف ریکارڈ رکھنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کے نسب یا رضاعت (raza’at) سے متعلق مسائل پیدا نہ ہوں۔
یہ منصوبہ 2024 میں مذہبی خدشات، خصوصاً رضاعت کے معاملات پر اعتراضات کے باعث روک دیا گیا تھا تاہم اب اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کے بعد ماہرین اطفال اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔
سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونٹولوجی اور اس کے ڈائریکٹر پروفیسر جمال رضا نے اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معطل شدہ پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








