متنازعہ سرحدی علاقے لداخ میں کشیدگی کے دوران چینی وزارتِ خارجہ نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمارے علاقوں پر قبضے سے باز رہے۔
تفصیلات کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ نے مودی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لداخ کی سرحد پر بھارتی فوج کی مزید نفری تعینات کرکے چین کی حدود میں واقع علاقوں پر قبضے کرنے کی کوششوں سے باز آجائے، بصورتِ دیگر کارروائی کی جائے گی۔
چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت ہٹ دھرمی اور پیش قدمی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے جو غیر قانونی طور پر ایل اے سی (لائن آف ایکچؤل کنٹرول) کو عبور کرکے جارحیت کا مرتکب ہونا چاہتا ہے۔
دوسری جانب مودی حکومت کا کہنا ہے کہ چین کے ہم پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، چین بھی بڑی تعداد میں فورسز تعینات کرکے سرحدوں پر کشیدگی کی وجہ بن رہا ہے، اگر تعداد کم نہ کی گئی تو دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں کمی نہیں آسکتی۔
واضح رہے کہ چین اور بھارت شمال مشرقی علاقے سکم سے لے کر مشرقی لداخ تک 3 ہزار کلومیٹر طویل سرحد کے شراکت دار ہیں جس کے زیادہ تر حصے کو ایل اے سی کہا جاتا ہے جس پر دونوں ممالک کے مابین طویل عرصے سے تنازعہ جاری ہے۔
حال ہی میں چین اور بھارت کے مابین ہونے والی کشیدگی کے دوران مودی حکومت کی جانب سے بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چین کے 100 فوجی اہلکار 55 گھوڑے لے کر بھارت میں گھس گئے۔
بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ چینی فوج نے 5 کلومیٹر تک بھارتی سرحد میں داخل ہو کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ رواں برس 30 اگست کو بھی چینی فوج کے اہلکار 3 گھنٹے تک متنازعہ علاقے میں گھومتے رہے جن پر پل تباہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
قبل ازیں متنازعہ سرحدی علاقے لداخ کی وادی گلوان میں بھارتی فوج اور چینی فوجیوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کی نئی ویڈیو جاری کر دی گئی۔ ویڈیو میں بھارتی اہلکاروں کو جھڑپ کا آغاز اور لڑائی میں پہل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
لداخ میں وادی گلوان پر گزشتہ سال بھارت اور چین کے فوجیوں کی لڑائی میں بھارتی فوج کے کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے،تاہم اس وقت چین کی جانب سے اپنی فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں کوئی بیان نہیں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: لداخ میں خونریز جھڑپ کی نئی ویڈیو، بھارتی فوج کی لڑائی میں پہل ثابت
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








