بظاہر غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کرنے اور فلسطینی عوام کے حق میں بلند بانگ دعوے کرنے والے چین کا بھی مغربی کنارے میں اسرائیل کی غیر قانونی یہودی آبادکاریوں کو سہارا دینے میں کردار کا انکشاف ہوا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب فلسطینی گاؤں حوّارہ کے رہائشی احمد نے انکشاف کیا کہ چینی تعمیراتی کمپنی کے اہلکار صیہونی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں اور وہیں تعمیراتی سرگرمیوں میں بھی شریک ہیں۔ احمد کا کہنا ہے کہ میں انہیں اکثر گاؤں کی گلیوں میں دیکھتا ہوں، وہ ہماری دکانوں سے خریداری بھی کرتے ہیں۔
فلسطینی خاتون صحافی رازَن شوامرہ نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں تحقیق کی اور کئی مقامی افراد سے ملاقاتیں کیں۔ رام اللہ کے رہائشی علی نے بتایا: “میں نے اپنی آنکھوں سے درجنوں چینی اہلکاروں کو بیت ایل کی یہودی بستی میں گھروں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کرتے دیکھا ہے۔”
یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر چین اپنے آپ کو فلسطینیوں کا حامی ظاہر کرتا ہے، لیکن حقیقت میں چینی کمپنیاں اور مزدور براہ راست اسرائیلی آبادکاری منصوبوں کو جاری رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








