اسلام آباد میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی فروخت جاری، ایکسائز ملازمین کی چاندی ہوگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی فروخت جاری، ایکسائز ملازمین کی چاندی ہوگئی
اسلام آباد میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی فروخت جاری، ایکسائز ملازمین کی چاندی ہوگئی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کے قریب نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی فروخت جاری ہے جس سے اسکولز اور کالجز میں زیرِ تعلیم قوم کا مستقبل داؤ پر لگ گیا جبکہ ایکسائز ملازمین کی چاندی ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں  نان کسٹم پیڈ سگریٹس کی فروخت کے ساتھ ساتھ اسکولز اور کالجز کے قرب و جوار میں دکانوں، کھوکھوں اور کنٹینرز پر سگریٹس کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایکسائزاینڈٹیکسیشن کی کوتاہی کے سبب طلباء سگریٹ نوشی جیسی بد ترین عادت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد میں لاکھوں کے حساب سے دکانوں، پٹرول پمپس اور ہسپتالوں کے کنٹینرز پر سگریٹ کی فروخت کے باوجود لائسنس جاری کرنے کا کام مبینہ طور پر  مکمل نہیں ہو سکا جس پر گزشتہ برس کی آڈٹ رپورٹ میں سوالات اٹھائے گئے تھے اور وہی سب غلطیاں دوہرائی جارہی ہیں۔

لائسنس جاری نہ ہونے کے باعث وفاقی حکومت کو دوبارہ بھاری مالی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے قوانین کے مطابق تعلیمی اداروں کے قریب سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد ہے جبکہ سگریٹ کے کاروبار سے منسلک تمام چھوٹے بڑے دکانداروں کولائسنس جاری کرکے ٹیکس نیٹ میں شامل کیاجاتا ہے۔

قانون کے تحت نان کسٹم پیڈ سگریٹس کی فروخت بھی جرم ہے لیکن لاکھوں کی تعداد میں نان کسٹم پیڈ سگریٹس کی فروخت کے باوجود گزشتہ برس کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق لائسنس جاری کرنے کا کام مکمل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا ہے۔

ایکسائز حکام پر کام کا بوجھ ہونے کے سبب متعدد کاموں میں ان کی توجہ تقسیم ہونے کا بھرپور فائدہ نیچے والا عملہ اٹھا رہا ہے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے گریڈ 24 سے 17 میں کام کرنے والے ایکسائز ملازمین کروڑوں روپے کی فلاحی اور غیر منقولہ جائیدادوں کے مبینہ طور پر مالک بن چکے ہیں۔

مذکورہ ملازمین نے قانون کی پکڑ سے بچنے کے لئے اوپر کی آمدنی سے خریدی جانے والی پراپرٹیز اپنے والدین یا عزیز و اقارب کے نام پر ٹرانسفر کرکے اسٹامپ پیپرز اپنے نام کروا لیے ہیں جبکہ متعدد رئیل اسٹیٹ یا گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہو گئے اور مہنگی اور بیش قیمت گاڑیوں کو خرید کر رینٹ اے کار پر لگا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ایکسائز آفس میں کام کرنے والے ایک ذمہ دار آفیسر نے اپنا نام صیغۂ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اسکولزاور کالجز کے قرب و جوار میں سگریٹس کی فروخت، لائسنس جاری کرنا اور نان کسٹم پیڈ سگریٹس فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ذمہ داری ہےجس کا فائدہ نچلا طبقہ اٹھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔وزیرِ خارجہ

Related Posts