وفاقی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری بھرکم اضافے کے بعد مٹی کا تیل بھی عوام کی پہنچ سے مزید دور کردیا ہے جس پر شہری سراپا احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں 130روپے 8پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے تیل کی نئی قیمت 318روپے 81پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔ لائٹ ڈیزل بھی مہنگا کردیا گیا۔
حکومت کے فیصلے کے تحت لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 67روپے 82پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جس سے لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 235روپے 1 پیسے تک جا پہنچی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے ایران پر اسرائیل و امریکا کے حملوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بھاری بھرکم اضافہ کردیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان وزیر توانائی علی پرویز ملک نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے موجودہ حالات کے تناظر میں مشکل فیصلہ کیا اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 55، 55روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو بلا رکاوٹ ممکن بنانے کیلئے کیا گیا۔ حکومت کے نئے نرخ سامنے انے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 335روپے 86پیسے فی لیٹر ہوگی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے سے ملک بھر میں ہوجائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








