اسلام آباد: قومی ائیر لائن (پی آئی اے) پر پابندی کے باوجود سول ایوی ایشن کا فلائٹ سیفٹی کو مانیٹر کرنے والا محکمہ اپنے سربراہ ڈائریکٹر فلائٹ اسٹینڈرڈز سے 2 سال سے محروم ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور پی آئی اے پر یورپی یونین اور برطانوی پابندی کے باوجود سول ایوی ایشن حکام کی عدم توجہی کا سلسلہ جاری ہے۔ ائیر لائنز کی فلائٹ سیفٹی کی نگرانی کرنے والا محکمہ اپنے سربراہ سے محروم ہے۔
ڈالر کی قدر میں مزید کمی، نئی قیمت 216 روپے ہوگئی
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر فلائٹ اسٹینڈرڈز کا عہدہ 2 سال گزر جانے کے باوجود خالی ہے۔ فلائٹ انسپکٹر افتخار عثمانی کو عارضی چارج دے دیا گیا تاہم اہلیت نہ ہونے کے باعث مستقل نہیں کیا جارہا۔ اہم عہدہ تاحال خالی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم عہدے کے خالی ہونے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی پر یورپی پابندی اٹھوانے کے اقدامات کی سنجیدگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حکام نے مختلف عہدوں پر خلافِ ضابطہ تعیناتی کے احکامات بھی جاری کرنا شروع کردئیے۔
سول ایوی ایشن میں انسپکٹرز کی تعداد انتہائی کم ہونے کے باعث ائیر لائنز کا کام متاثر ہورہا ہے۔ مختلف ائیر لائنز کا 130 سے زائد کیبن کریو انسپکٹرز کی کمی کے باعث وقت پر چیکنگ نہ ہونے کے باعث ڈیوٹی سے محروم اور ائیرلائنز کا نقصان ہورہا ہے۔
بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ افتخار عثمانی کی ایماء پر جان بوجھ کر چھٹی کے دن چیک رکھے جاتے ہیں جن سے انسپکٹرز دوگنا الاؤنس وصول کرتے ہیں۔ پائلٹس کی چیکنگ کیلئے 3 انسپکٹرز میں سے 1 استعفیٰ دے چکا، دوسرا ریٹائرمنٹ پر چلا گیا۔
اس حوالے سے ذرائع کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ 600 سے زائد پائلٹس کیلئے سول ایوی ایشن کے پاس ایک انسپکٹر ہے جو سال کے ہر روز 2 چیک روزانہ بھی رکھے تو ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی۔ سول ایوی ایشن کو انسپکٹرز اور اہم عہدے پر تعیناتی یقینی بنانا ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








